قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 162 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 162

162 الشيطان في اغوائه الا مريم وابنها فانهما كانا معصومین و كذالك من كان في صِفَتِهِمَا لقوله تعالى "إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ ،، الْمُخْلَصِينَ۔“ تلویح میں لکھا ہے۔انّما يردّ خبر الواحد من معارضة الكتاب - خبر واحد جس میں احادیث بخاری و مسلم بھی شامل ہیں بحالت معارضہ کتاب اللہ رڈ کرنے کے لائق ہے۔تفسیر حسینی میں زیر تغییر آیت وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ لکھا ہے کہ کتاب تیسیر میں شیخ محمد ابن اسلم طوسی سے نقل کیا ہے کہ ایک حدیث مجھے پہنچی ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو کچھ مجھ سے روایت کرو پہلے کتاب اللہ پر عرض کر لو۔اگر وہ حدیث کتاب اللہ کے موافق ہو تو وہ حدیث میری طرف سے ہوگی ورنہ نہیں۔سو میں نے اس حدیث کو کہ مَنْ تَرَكَ الصّلوةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ كَفَرَ قرآن سے مطابق کرنا چاہا اور تمیں سال اس بارے میں فکر کرتا رہا۔مجھے یہ آیت ملی واقیموا الصلوة ولا تكونوا من المشركين۔علماء حنفیہ خبر واحد سے گو وہ بخاری ہو یا مسلم ہو قرآن کریم کے کسی حکم کو ترک نہیں کرتے۔امام شافعی حدیث متواتر کو بھی جن کی تعداد بہت ہی قلیل ہے بمقابلہ آیت کا لعدم سمجھتے ہیں۔اور امام مالک کے نزدیک خبر واحد کے مقابلہ میں قیاس مقدم ہے۔پس معلوم ہوا کہ حدیث کو قرآن شریف کی کسوٹی کے ساتھ جانچنے کا اصول دنیا جہان میں نرالا اصول نہیں ہے بلکہ یہ وہ اصول ہے جس پر مجتہدین امت ہمیشہ عمل کرتے رہے ہیں۔دوسرا عذر جو حامیان قتل مرتد نے قرآن شریف کے معیار سے گریز کرنے کے لئے پیش کیا ہے یہ ہے کہ امام بخاری جیسے بزرگ کی نسبت یہ خیال بھی دل میں لانا ایک