قتل مرتد اور اسلام — Page 164
164 ہے۔ائمہ حدیث جس طور سے صحیح اور غیر صحیح حدیثوں میں فرق کرتے ہیں اور جو قاعدہ تنقید احادیث انہوں نے بنایا ہوا ہے وہ تو ہر ایک پر ظاہر ہے۔احادیث صرف راویوں کے سہارے سے اور ان کی راست گوئی کے اعتبار پر قبول کی گئی ہیں اور یہ طریق یقینی اور قطعی الثبوت نہیں۔ان احادیث کا فی الواقع صحیح اور راست ہونا تمام راویوں کی صداقت اور نیک چلنی اور سلامت فہم اور سلامت حافظہ اور تقویٰ اور طہارت وغیرہ شرائط پر موقوف ہے۔اور ان تمام امور کا کما حقہ اطمینان کے موافق فیصلہ ہونا اور کامل درجہ کے ثبوت پر جو حکم رؤیت کا رکھتا ہے پہنچنا حکم محال کا رکھتا ہے۔اور کسی کی طاقت نہیں کہ حدیثوں کی نسبت ایسا ثبوت کامل پیش کر سکے۔تمام ائمہ حدیثوں کے جمع کرنے میں ایک قسم کا اجتہاد کام میں لائے اور مجبہتہ کبھی مصیب اور کبھی مخطی بھی ہوتا ہے۔" پس حامیان قتل مرتد کا یہ دعوی کہ محدثین کے مقرر کردہ اصول احادیث کو یقین کے مرتبہ تک پہنچا دیتے ہیں غلط ہے۔کیا حامیان قتل مرتد صحیح بخاری کی تمام احادیث کی نسبت یا ان احادیث کی نسبت جن کوانہوں نے اپنے دعوای کی تائید میں موجودہ بحث میں پیش کیا ہے حلفاً کہہ سکتے ہیں کہ ان کا لفظ لفظ یقیناً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے کلمات طیبات ہیں اور ان میں کسی قسم کی تبدیلی اور تغیر نہیں ہوا؟ احادیث کے تین اقسام مقرر کئے گئے ہیں۔ایک متواتر۔دوم مشہور۔سوم احاد۔متواتر کی یہ تعریف لکھی ہے۔هـو مـا يـرويـه قـوم لا يحصى عددهم ولا يتوهم تواطؤهم على الكذب لكثرتهم وعدالتهم وتباين اماكنهم ويدوم هذا الحد الى ان يتصل برسول الله صلعم (حسامی ) یعنی متواتر قسم کی حدیث وہ ہے جس کے روایت کرنے والے اتنے لوگ ہوں کہ وہ شمار میں بھی نہ آسکیں اور ان کی تعداد ایسی کثیر ہو اور وہ ایسے عادل ہوں اور ان کے مکان ایک دوسرے سے اس قدر دُور