قتل مرتد اور اسلام — Page 143
143 ہی راستہ ان کے لئے کھلا ہے کہ وہ ان معنوں کو غلط ثابت کر کے دکھا ئیں جن کے رُو سے عدم جواز اکراہ کا استدلال کیا جاتا ہے۔مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ صرف حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت نقل کرنے اور اردو میں اس عبارت کا مفہوم بیان کر دینے پر اکتفا کیا ہے اور دو تین اور مؤیدین کا نام لکھ کر مولوی ظفر علی خان صاحب نے جنہوں نے یہ قول پیش کیا ہے جھٹ آگے لکھا ہے لیکن میں اس تصریح کو نظر انداز کر کے تھوڑی دیر کے لئے فریق ثانی ہی کے ترجمہ کو صحیح تسلیم کیے لیتا ہوں۔“ جو لوگ مولوی صاحب کے مضمون کو غور سے پڑھیں گے وہ ضرور اس امر کو نوٹ کریں گے کہ مولوی صاحب نے اس مضمون میں یہ روش اختیار کی ہے کہ جو بات ان کی تائید میں ہوتی ہے لیکن دراصل اپنے قلب میں اس کو صحیح تسلیم نہیں کرتے۔اس کو تو وہ نقل کرنے سے نہیں چوکتے لیکن اتنی احتیاط کر لیتے ہیں کہ اس دلیل کو صرف دوسرے شخص کے منہ میں ڈال کر بیان کر دیتے ہیں خود اس کی تائید کرنے سے خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ایسا ہی انہوں نے حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر آیت لا اکراہ فی الدین کے متعلق رویہ اختیار کیا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ مولوی صاحب کو خود حضرت شاہ صاحب کی تفسیر سے اتفاق نہیں بلکہ حق یہ ہے کہ مولوی صاحب اور ان کے دوسرے ہمنوا مولوی صاحبان نے حضرت شاہ صاحب کی تفسیر کو درست نہیں سمجھا اور ان سب نے اصولی طور پر لا اکراہ فی الدین کے وہی معنے درست تسلیم کئے ہیں جو بالصراحت ان الفاظ سے ظاہر ہوتے ہیں یعنی یہ کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔ہاں اس بات کے ثابت کرنے کے لئے بے سو دکوشش کی ہے کہ یہ حکم صرف خارج از اسلام لوگوں کے لئے ہے یعنی جو لوگ ابھی اسلام میں داخل نہیں ہوئے ان کے متعلق حکم ہے کہ ان کو جبر کے ذریعہ اسلام میں داخل نہ کیا جاوے یعنی جو لوگ ایک دفعہ اسلام قبول کر لیں اور پھر اس سے ارتداد اختیار کریں ان پر یہ آیت چسپاں نہیں ہوتی۔اس وقت میرے سامنے تین مضمون نگار ہیں۔مولوی ظفر علی خان صاحب۔