قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 144 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 144

144 مولوی شاکر حسین صاحب سہسوانی اور مولوی شبیر احمد صاحب دیو بندی۔اور تینوں اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جبر کے ذریعہ کسی کو اسلام میں داخل کرنا جائز نہیں جس کے یہ معنے ہیں کہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر لا اکراہ فی الدین درست نہیں کیونکہ حضرت شاہ صاحب کی تفسیر کی جو تشریح مولوی ظفر علی خان صاحب نے کی ہے اس کے یہی معنی ہیں کہ اسلام میں داخل کرنے کے لئے جبر سے کام لینا چاہئیے۔پس جس تفسیر کے ساتھ خود مولوی ظفر علی خان صاحب کو اتفاق نہیں اس کو مولوی صاحب اپنی تائید میں کیوں پیش کرتے ہیں۔کیا اسی کا نام انصاف اور دیانتداری ہے؟ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی بلندشان اور عالی مرتبہ کا پورا پورا احترام کرتے ہوئے میں یہ ضرور عرض کروں گا کہ ان کی تفسیر صاف بتا رہی ہے کہ انہوں نے لا اکراہ في الدین کی تفسیر کرنے میں ایک خاص عقیدہ کی اتباع میں تکلف سے کام لیا ہے۔بعض مسلمانوں میں غلط فہمی سے یہ عقیدہ پیدا ہو گیا کہ اسلام مشرکوں اور اہل الاوثان کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ان کے لئے دو ہی راہیں کھلی ہیں یا اسلام قبول کریں یا تلوار۔ظاہر ہے کہ یہ ایک جبر کی راہ ہے اور آیت لا اکراہ فی الدین کے صریح خلاف ہے۔اس لئے جن لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ مشرکین اور اہل اوثان کے لئے جبر جائز ہے انہوں نے آیت لا اکراہ فی الدین کو اپنے اس عقیدہ کے خلاف پا کر اس کے متعلق تین مختلف راہیں اختیار کی ہیں۔ان میں سے بعض نے تو بڑی جد وجہد کے بعد اور اپنا بہت سا دماغ خرچ کر کے اس آیت کے حقیقی معنوں کو جو بالکل واضح اور بین تھے نظر انداز کر کے اس کی طرف ایسا مفہوم منسوب کیا جس کے متحمل اس آیت کے الفاظ ہرگز نہیں ہو سکتے تھے بلکہ یہ مفہوم آیت کریمہ کے صحیح اور اصلی معنوں کے بالکل الٹ اور خلاف تھا۔یعنی انہوں نے اس آیت کریمہ کے یہ معنی کئے کہ دین میں زبر دستی اور جبر جائز ہے۔دین کے لئے اگر کسی پر جبر کیا جاوے تو وہ جبر نہیں کہلا سکتا۔یہی معنی ہیں جن کو شاہ ولی اللہ علیہ الرحمۃ نے اختیار