قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 142 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 142

142 کریں کہ یہ ایک مبہم آیت ہے جس سے دو متضاد مفہوم پیدا ہو سکتے ہیں اور چونکہ اس آیت کریمہ سے اکراہ فی الدین کے جواز کا مفہوم نکالنے والے حضرت شاہ ولی اللہ جیسے بزرگ انسان ہیں۔اس لئے ہم جو از اکراہ کے مفہوم کو عدم جواز اکراہ کے مفہوم پر ترجیح دیں گے۔لیکن حامیان قتل مرتد کی ضمیر خواہ کیسے ہی موٹے پردوں کے نیچے دبی ہوئی ہو بھی ان کو اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ وہ یہ کہنے کی جرات کریں کہ یہ آیت مبہم ہے اور اس سے دو متضاد مفہوم جو بالکل ایک دوسرے کی ضد ہیں پیدا ہو سکتے ہیں۔کیونکہ یہ آیت ایسی صاف اور کھلی ہے اور اس کا مفہوم ایسا واضح اور تین ہے کہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے نام کے سہارے کے باوجود بھی حامیان قتل مرتد اس بات کے کہنے کی جرات نہیں کر سکتے کہ وہ اس آیت کو مبہم قرار دیں اور یہ کہیں کہ اس آیت سے دو متضاد مفہوم پیدا ہو سکتے ہیں۔ایک ہی آیت سے دو ایسے معنی نکالنا جو بالکل ایک دوسرے کی ضد ہوں۔اور جن میں آپس میں وہی نسبت ہو جو رات کو دن سے ہے بالکل ناممکن ہے۔ایسا خیال کرنا کہ ایک ہی آیت سے دو بالکل الٹ معنے نکل سکتے ہیں جن میں سے ایک دوسرے کی تردید کرتا ہے نعوذ باللہ خود قرآن شریف پر اعتراض کرنا ہے۔بے شک قرآن شریف کی آیات سے ایک سے زیادہ فوائد پیدا ہو سکتے ہیں اور ایک ہی آیت مختلف معانی پر حاوی ہوسکتی ہے مگر وہ معانی ایک دوسرے کی ضد نہیں ہو سکتے۔وہ سب معانی ایسے ہوں گے جو ایک ہی وقت میں صحیح ہوں گے اور ایک ان میں سے دوسرے معانی کا منافی نہیں ہوگا۔مگر ایک آیت سے آپ ایسے دو معنے نہیں نکال سکتے جو آپس میں ایک دوسرے کی ضد ہوں۔اگر ایک کو درست مانا جائے تو دوسرا غلط ثابت ہو۔پس حامیان قتل مرتد یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس آیت سے دو معنے نکل سکتے ہیں۔اکراہ فی الدین کے جواز کے معنے بھی اور عدم جواز کے معنے بھی۔ایک ہی معنے درست ہو سکتے ہیں یا تو جواز کے معنے درست ہیں یا عدم جواز کے۔دونو درست نہیں ہو سکتے۔پس آیت زیر بحث کو مبہم قرار دینے کا راستہ حامیان قتل مرتد پر بند ہے۔اب ایک