قندیل ہدایت — Page 770
770 of 1460 ۵۳۹ تـعـالـى عـلـى جـده الكريم و عليه وبارك وسلم شیخ کا على قدم النبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اختلاف ان کی کشفی تحقیق ہے۔حضور سید الاولیاء غوث پاک رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد کے ساتھ متصادم نہیں کہ آپ نے فرمایا وکل ولی له قدم وانی۔على قدم النبى بدر الكمال۔وہ ان کے ذوق و تحقیق کے مطابق ہے اور یہ حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ کی رفعت و عظمت کا آئینہ دار ہے۔اس کی مثال وہ وضاحت ہے جو کہ شیخ نے تنزل الوحی علی قلب الا نبیاء اور تنزل وحی علی قلوب الا ولیاء میں بیان فرمائی ہے۔یہ وضاحت ماقبل میں وحی الہامی اور وحی انبیاء کے فرق کی بحث میں بیان کی ہے۔من شاء فل طالع محمہ۔نیز عرف کے مطابق نقش قدم پر چلنے سے مراد نشان قدم پر پاؤں رکھنا اور اسے پائمال کرنا نہیں ہوتا بلکہ اسے راہنمائے منزل اور قبلہ توجہ بنانا مراد ہوتا ہے۔یعنی یوں تو تمام مقربین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے نقش قدم پر چلتے ہیں لیکن غوثیت عظمیٰ اور محبوبیت کے حوالے سے اس سلسلے میں غوث پاک رضی اللہ عنہ کو خصوصیت حاصل ہے کہ آپ علی قدم النبی بدر الکمال کی برکت سے قرب کے اس مقام تک پہنچے جسے آپ نے اخدع فرمایا انا الحسنى والمخدع مقامي ، و اقدامی علی عنق الرجال محمد محفوظ احق غفرلہ والوالد یہ )۔العلماء ورثۃ الانبیاء سے کون مراد ہیں اگر تو کہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول العلماء ورثۃ الانبیاء سے کیا مراد ہے۔کیا یہ محدثون میں یا تطلق علماء؟ تو جواب یہ ب کہ ان سے مراد ہر وہ شخص ہے جس کے علم کے متعلق عقول اور حواس مستقل نہ ہوں۔بلکہ عقول اپنے غور و فکر کی حیثیت سے اسے محال جانیں اور ان سے مراد وہ نہیں جن سے علم کے اور اک کے ساتھ عقول و حواس مستقل ہوں۔پس بیشک یہ اس کا وارث نہیں ہوتا۔پس سمجھ لے۔اور جان لے کہ کسی کے لئے میراث صحیح نہیں مگر موروث کے برزخ کی طرف منتقل ہونے کے بعد۔کیونکہ انتقال کے بغیر عبد کو بنو کچھ حاصل ہوتا ہے اسے وراثت نہیں کہتے۔اسے تو جہ ، عطیہ اور ہدیہ کہتے ہیں جس میں بندہ نائب اور خلیفہ ہوتا ہے نہ کہ وارث۔اور ۳۸۰ ویں باب میں فرماتے ہیں مخفی نہ رہے کہ وراثت سب کی سب دو اقسام کی طرف لوٹتی ہے۔معنوی اور محسوس۔پس محسوس وہ اخبار ہیں جو کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے افعال، اقوال اور احوال کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔رہی معنوی وراثت تو یفس کو مذموم اخلاق سے پاک کرنا اور اچھے اخلاق اور ہر حال میں حضور قلب اور توجہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت کے ساتھ اسے آراستہ کرنا ہے۔اعظم الورثاء کون ہیں اگر تو کہے کہ انبیاء علیہم السلام کے ورثاء میں سے اعظم کون ہے؟ تو جیسا کہ شیخ نے ۷۳ ویں باب میں تیرہویں جواب میں کہا جواب یہ ہے کہ ورثاء میں اعظم دو خاتم ہیں اور ان میں کا ایک، دوسرے سے اعظم ہے۔پس ایک کے ساتھ اللہ تعالیٰ ولایت علمی الاطلاق ختم فرماتا ہے اور ایک کے ساتھ اللہ تعالیٰ ولایت محمد یہ ختم فرماتا ہے۔رہا خا تمہ الولایت علی الاطلاق۔تو وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔آپ اس امت کے دور میں نبوت مطلقہ کے ساتھ ولی ہیں جبکہ آپ کے اور تشریع در سالت کے درمیان آڑ قائم کی گئی ہے۔پس آپ آخری زمانے میں وارث اور خاتم ہو کر نازل ہوں گے آپ کے بعد نبوت، مطلقہ کے ساتھ کوئی ولی نہیں ہو گا۔جس طرح کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاتم نبوت ہیں۔آپ کے بعد نبوت تشریع نہیں ہے۔تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اگر چہ آپ کے بعد ہوں گے اور اولو العزم اور خواص رسل میں سے ہیں۔پس بیشک آپ کا حکم اس مقام سے آپ پر اس