قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 771 of 1460

قندیل ہدایت — Page 771

771 of 1460 ۵۴۰ زمانے کے حکم کی وجہ سے زائل ہو چکا جو کہ آپ کے غیر کے لئے ہے۔پس آپ نبوت مطلقہ والے ولی کے طور پر بھیجے جائیں گے اور آپ کو شریعت محمدیہ علی صاحبہا السلام بطور الہام عطا ہوگی اور آپ اسے اولیاء محمد بین کی طرح اس کی جہت سے سمجھیں گے۔پس آپ ہم سے ہیں اور ہمارے سردار ہیں۔آپ آخر امر میں نبی ہیں جس طرح کہ حضرت آدم اول امر میں نبی تھے۔پس نبوت حضرت محمد۔پس نبود صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ختم ہو گئی اور ولایت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ۔خاتم ولایت محمدیہ شیخ نے فرمایا: رہا خاتم ولایت محمدیہ تو وہ دیار مغرب کا ایک کریم الاصل والعمہ شخص ہے۔اور وہ آج ہمارے دور میں موجود ہے اور ۵۹۵ رہ میں میری اس سے ملاقات ہوئی۔اور میں نے وہ علامت دیکھی جسے حق تعالی نے اس میں اپنے بندوں کی آنکھوں سے چھپارکھا ہے۔اور اسے شہر فاس میں میرے لئے منکشف فرمایا۔حتی کہ میں نے اس کی وجہ سے خاتم ولایت محمد یہ دیکھا۔اور میں نے اسے ان علوم ربانیہ کے بارے میں جن کے ساتھ وہ اپنے سر میں متحقق ہے لوگوں کے اعتراض میں مبتلا پایا اور شیخ نے یہاں طویل گفتگو کی۔پھر فرماتے ہیں : جان لے کہ اولیا ء اکثر خوارق کے ساتھ کلام کرتے ہیں پس جب تک وہ سلام حد شرع سے باہر نہ ہو اسے تسلیم کرنا چاہیے۔جیسے کہ ان میں سے کسی کا گمان کرنا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ کلام فرمایا جیسے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کلام فرمایا۔پس اس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اختصاص اور لوگوں پر آپ کا کلام الہی کے ساتھ انتخاب باطل ہوتا ہے۔جبکہ قرآن عظیم میں فرمایا: وما كان لبشر ان يكلمه الله الا وحيا او من وراء حجاب (الشوری آیت ۵۱۔اور کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کلام کرے مگر وحی کے طور پر یا پس پردہ۔Spread بشر کی وجہ تسمیہ اگر تو کہے کہ انسان کو بشر کیوں کہا گیا ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ اسے بشر اس لئے کہا گیا کہ وہ ایسے امور کا اپنے ہاتھ سے ارتکاب کرتا ہے جو اسے درجہ روح کے ساتھ لاحق ہونے سے روکتے ہیں۔اگر وہ ان رکاوٹوں سے خلاصی پالیتا تو اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرماتا جہاں سے اس نے ارواح سے کلام فرمایا۔اور اس کی بشریت کا اٹھ جانا محال ہے کیونکہ اس کا جزء دقیق ہے اور منقطع نہیں ہوتا۔پس امت میں سے کسی کے ساتھ اللہ تعالٰی کا مشافہہ کلام کرنا صحیح نہیں۔گرچہ اس کا رتبہ بلند ہو۔کلام محادثہ اور مناجات میں فرق اگر تو کہے کہ پھر کلام محادثہ اور مناجات میں کیا فرق ہے۔بیشک اہل اللہ مکالمہ منع کرتے ہیں نہ کہ محادثہ اور مناجات؟ تو جواب یہ ہے کہ دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ کلام کے مقام کے لئے لازم ہے کہ اس مرتبے والا کلام حق سنے۔جبکہ محادثہ اور مناجات میں کلام حق کا سماع نہیں ہے۔پس یہ کر گا ہی مجاہدہ کر نیوالوں کی طرح حق سے مناجات کرتے ہیں۔اور اس کے حضور معروضات پیش کرتے ہیں۔اور وہ انہیں اس کی طرف سے فہم کا الہام فرماتا ہے۔جبکہ بعض اہل اللہ، اولیاء میں سے کسی کے لئے حق کے ساتیر محادثہ ( حدیث گفتن) بھی ممنوع قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں اس حدیث سے مراد مناجات ہے جس میں حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر میری امت سے محدثون ہیں تو وہ عمر ہے۔