قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 769 of 1460

قندیل ہدایت — Page 769

769 of 1460 form طرف سے پہچان کرانے کی منہ سے ان کی شریعت کے معانی حاصل کرتے ہیں لیکن نور انبیاء کے مشکوۃ سے۔پس انہیں اللہ تعالیٰ سے اور نہ ہی روح قدس سے برادر است فیض حاصل نہیں ہوتا۔اور علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور روح قدس سے بطور الہام فیض پاتے ہیں۔علماء اور اولیاء درتہ الانبیاء ہیں اور شیخ نے ۴۳۰ ویں باب میں فرمایا: جان لے کہ انبیاء کے وارث علماء اور اولیاء ہی ہیں۔پس اولیا ء احوال اور احکام باطنی کے محافظ ہیں جو کہ فہموں پر دقیق ہیں۔جب کہ علماء احکام ظاہر کے حافظ میں جو کہ ظاہری طور پر ہی سمجھے جا سکتے ہیں۔اور کبھی یہ حضرات بھی احوال بالمنہ میں انبیاء کے وارث ہوتے ہیں۔جس طرح کہ سلف صالح اس منصب پر تھے کہ وہ اولیاء علماء تھے۔پس جب لوگ اس سب کچھ پر عمل سے پیچھے رہ گئے جو ان کے علم میں تھا تو انہیں صرف علماء کہا گیا اور ان سے نام ولی سلب کر لیا گیاور نہ علماء حقیقت میں اولیاء ہی ہیں۔جس طرح کہ آج لوگوں کا عقیدہ ہے۔ہر ولی بلا شک و شبہ عالم عامل ہے جبکہ ہر عالم ولی نہیں۔کیونکہ کبھی وہ اپنے علم پر عمل سے پیچھے رہ جاتا ہے۔پس فقہا ، حقیقت میں وہ اولیا ء ہی ہیں کہ یہ حضرات علم مقام پر علم احوال کا اضافہ رکھتے ہیں۔وارث محمد کی اور دیگر انبیاء کے وارث میں فرق اگر تو کہے کہ وارث محمدی اور حضور علیہ السلام کے سوا دوسرے انبیاء علیہم السلام کے وارث کے درمیان کیا فرق ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ انبیاء کے وارثوں کی خرق عادات وغیرہ آیات آفاق میں ہیں۔جبکہ وارث محمدی کی آیت اس کے قلب میں ہے۔اس لئے وارث محمدی عام طور پر غیر معروف ہوتا ہے۔خواص میں معروف ہوتا ہے۔کیونکہ خرق عادت صرف اس کے قلب میں حال اور علم ہے۔پس وہ ہر سانس میں علم حال و ذوق کے حوالے سے اپنے رب کے متعلق علم میں بڑھتارہتا ہے۔اسی طرح رہتا ہے۔جس طرح کہ معجزات کی بحث میں اس کی طرف اشارہ گذر چکا ہے۔اور ۴۳۹ ویں باب میں فرمایا: وارث محمدی کی علامات میں سے یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کا ہر نبی کے پیچھے مشاہدہ کرتا ہے۔اور اگر وہ ایک لاکھ نبی ہوا، تو وہ اپنے آپ کو ان کی گنتی کے مطابق اتنے ہی مکانات میں دیکھتا ہے۔پس بیشک تمام انبیاء ورسل کے حقائق اور شرائع حضور نبی کریم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جمع ہیں۔تو جو بھی آپ پر ایمان لایا اور تصدیق کی تو گویا در حقیقت تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان لایا۔پھر جب اس کی صورت تمام انبیاء کے پیچھے متعدد ہوتی ہے تو وہ جانگنے لگتا ہے کہ یہ وہی ہے۔اور ہر صورت میں اس کا غیر نہیں۔اور اس میں طویل کلام فرمایا۔اور ۷۳ ویں باب میں ۵۸ ویں جواب میں فرماتے ہیں: جان لے کہ یہ دولت محمد یہ انبیاء و مرسلین کے قدموں کی جامع ہے۔تو جس ولی نے حضرت الہیہ حقیہ میں کوئی قدم اپنے آگے دیکھا تو یہ اس نبی کا قدم ہے جس کا وہ وارث ہے۔رہا قدم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس کے نشان کو کوئی پائمال نہیں کر سکتا۔جس طرح کہ کوئی آپ کے قلب پر نہیں ہوتا اور جس طرح کہ کوئی بھی کمال پر آپ کا وارث نہیں ہے۔کیونکہ اگر کمال پر آپ کا کوئی وارث ہو تو آپ کی مثل رسول ہوتا یا نبی۔ایسی شریعت کے ساتھ جو اس کے ساتھ مخصوص ہوتی۔اسے اس سے حاصل کرتا جس سے حضرت محمدصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے حاصل کیا۔اور اس کا کوئی بھی قائل نہیں۔ہم تلبیس سے اللہ تعالی کی پناہ لیتے ہیں۔انہی۔اقول وبالله التوفيق بتوسل الحبيب الشفيع و بواسطة ابنه الرفيع السيد الشريف الغوث الا اعظم صلى الله