قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 430 of 1460

قندیل ہدایت — Page 430

430 of 1460 ۴۲ مقام کو مقام مرح قرار نہ دیکھے تو البتہ خاتمیت با اعتبار تاخر زمانی صحیح ہو سکتی ہے۔مگر میں جانتا ہوں کہ اہل اسلام میں سے کسی کو یہ بات گوارا نہ ہو گی کہ اس میں ایک تو خدا کی جانب نعوذ باللہ زیادہ گوئی کا وہم ہے۔آخر اس وصف میں اور قدو قامت و شکل و رنگ و حسب و نسب و سکونت وغیرہ اوصاف میں جن کو نبوت یا اور فضائل میں کچھ دخل نہیں ، کیا فرق ہے جو اس کو ذکر کیا ، اوروں کو ذکر نہ کیا۔دو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب نقصان قدر کا احتمال کیونکہ اہل کمال کے کمالات ذکر کیا کرتے ہیں اور ایسے ویسے لوگوں کے اس قسم کے احوال بیان کیا کرتے ہیں۔اعتبار نہ ہو تو تاریخوں کو دیکھ لیجئے۔باقی یہ احتمال کہ یہ دین آخری دین تھا، اس لیے ایک سوال اور اس کا جواب سد باب اتباع مدعیان نبوت کیا ہے جو کل کو جھوٹے دعوے کر کے خلائق کو گمراہ کریں گے البتہ في حد ذاته قابل لحاظ ہے۔پر جملہ ما كان مُحَمَّدًا اَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُو اور جمله ولكن رَسُولُ اللهِ وَخَاتَم البين ، میں کیا تناسب تھا جو ایک کو دوسر پر عطف کیا اور ایک کو مستدرک منہ اور دوسے کو استدراک قرار دیا۔اور ظاہر ہے کہ اس قسم کی بے ربطی دیے ارتباطی خدا کے کلام مھر نظام میں منصور نہیں۔اگر سد باب مذکور منظور ہی تھا تو اس کے لیے اور بیسیوں موقع تھے۔بلکہ بنار خاتمیت اور بات پر ہے جس سے تاخیر زمانی اور بنا۔خاتمیت کی تعیین ست باب مذکور خود بخود لازم آجاتاہے اور فضیلت جوتی دوبالا ہو جاتی ہے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ موصوف بالعرض کا قصہ موصوف بالذات نہ بنائے خاتمیت آپ کی ایسی دست کمال پر ہے جس سے آپ کا سب اغیار کے بعد آنا بھی ثابیت ہو جائے گا اور مدعیان نبوت کا ذبہ کے لیے بھی سدباب ہو جائے گا۔خاتمیت کا دارو مدار آپ کے مرتبہ پر ہے کہ آپ کو نبوت براہ راست بلا واسطہ اللہ تعالے سے حاصل ہے اور آپ کی نبوت ذاتی ہے باقی انبیا کو نبوت آپ کے واسطے اور فیضان سے اللہ تعالے کی طرف سے ملی ہے۔لہذا د کو رباقی صفحہ جدا ہے