قندیل ہدایت — Page 429
429 of 1460 ۲۱ الحمد لله رب العلمين والصلوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِهِ خاتم البين وَسَيّدِ الْمُرْسَلِينَ وَالِهِ وَاَصْحَابِهِ أَجْمَعِينَ تمہید -:- بعد محمد و صلواۃ کے قبل عرض جواب یہ گزارش ہے کہ اول معنی خاتم البين منه معلوم کرنے چاہئیں تا کہ مہم جواب میں کچھ وقت نہ ہو بہو عوام کے خیال تھے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم ہونا بایں معنیٰ ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آ سب میں آخری نبی ہیں مگر اہل قسم پر روشن ہو گا کہ تقدم یا تاخیر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں پھر مقام مدح میں ولكِنْ رَسُولُ الله وعالم النيين فرمانا اس صورت میں کیو نکر صحیح ہو سکتا ہے۔ہاں اگر اس وصف کو اوصاف مدح میں سے نہ کہئے اور اس نے یعنی آیتہ کر یہ میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین فرمایا گیا ہے۔اول اس کے معنی سمجھنے چاہیئیں ۱۲- ت سو عوام کے خیال میں الخ قاسم العلوم والخیرات حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی فرماتے ہیں کہ لفظ خاتم النبیین کا معنی عوام تو سی لیتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زمانے کے لحاظ سے سب نیوں کے بعد تشریف لائے ہیں اور بیس۔لیکن اہل علم و عقل بخوبی جانتے ہیں کہ محض زمانے کے لحاظ سے پیچھے آنا باعث فضیلت نہیں بلکہ کچھ اوصاف و کمالات ہوتے ہیں جو بعد میں آنے والے کو پہلے لوگوں پر فوقیت دیتے ہیں۔ورنہ محض آخر میں آنا اگر فضیلت کا موجب ہوتا تو سید ناشیخ عبدالقادر جیلانی کے بعد سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ولی آئے ہیں مگہ ان کا ہم مرتبہ کوئی نہیں۔اسی طرح ستید نا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد ہزاروں صحابہ کرام نے سرور کائنات علیہ السلام کے دست مبارک پر بیعت کی لیکن کوئی صحابی آپ کا ہم پلہ و ہم مرتبہ نہیں۔یہی نہیں بلکہ اگر زمانے کے لحاظ سے بعد میں آنا ہی فضیلت وبرتری کے لیے کافی ہوتا توسیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بعد سرور کائنات سے پہلے کئی انبیاء تشریف لائے لیکن ان میں سے کوئی نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر فضیلت نہیں رکھتا۔جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا متفقہ عقیدہ ہے۔کے اصل کتاب میں صلعم لکھا ہوا ہے ہم نے مکمل الفاظ میں لکھا ہے۔۱۲