قندیل ہدایت — Page 431
431 of 1460 پر ختم ہو جاتا ہے۔جیسے موصوف بالعرض کا وضعت موصوف بالذات سے مکتب ہوتا ہے موضوت بالذات کا وصف جس کا ذاتی ہونا اور غیر مكتب من الغیر ہونا لفظ بالذات ہی سے معلوم ہے کسی غیر سے مکتب اور مستعار نہیں ہوتا۔مثال درکار ہے تو لیجے۔زمین کسا اور درو دیوار کا نور اگر آفتاب کا فیض ہے تو آفتاب کا نور کسی اور کا فیض نہیں۔اور ہماری غرض وصف ذاتی ہونے سے اتنی ہی تھی۔بایں ہمہ یہ وصف اگر آفتاب کا ذاتی نہیں تو جس کا تم کہو ، وہی موصوف بالذات ہوگا، اور اس کا نور ذاتی ہوگا، کسی اور سے مکتب اور کسی اور کا فیض نہ ہوگا۔الغرض یہ بات بدیہی ہے کہ موصوف بالذات سے آگے سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔چنانچہ خدا کے لیے کسی اور خدا کے نہ ہونے کی وجہ اگر ہے تو یہی ہے یعنی ممکنات کا وجود اور کمالات وجود سب عرضی بمعنی با لعرض ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ کبھی موجود کبھی معدوم کبھی صاحب کمال کبھی بے کمال رہتے ہیں۔اگر یہ امور مذکورہ چمکنات کے حق میں ذاتی ہوتے تو یہ الفصال و اتصال نہ ہوا کرتا۔على الدوام وجود اور کمالات وجود ذات ممکنات کو لازم ملازم ہہتے۔بقید حاشیہ : انبار کی نبوت عرضی ہے۔اس ذاتی نبوت اور عرضی نبوت کو قاسم العلوم والخیرات حضرت نانوتوی با تفصیل اور با دلائل ثابت کریں گے۔جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نبی الا نیا۔اور اہم الانبیاء ہیں۔اس پر صحابہ کراہتا سے لے کر آج تک ساری امت کا اجماع ہے اور یہی الجماع اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کی نبوت ذاتی ہے۔جب کہ باقی انبیائر کی نبوت عرضی ہے کیونکہ اگر باقی انبیاء کو بھی نبوت بلا واسطہ اور براہ راست اللہ تعالیٰ جل شانه سے ہے۔تو پھر ان کا تعلق آپ کے ساتھ کیا باقی رہ جاتا ہے۔اور آپ نبی الانبیاء کیسے اور کن معنی میں ہوئے گویا آپ کو امام الانبیاء اور بنی الاغیار کرن محض خوش فہمی اور فرط عقیدت پر مبنی ہے۔حالانکہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے۔جیسا کہ کتاب وسنت اس پر