قندیل ہدایت — Page 146
146 of 1460 14 سور و بانده د فلما توفيتنى كنت أنتَ الرقيب پھر ب تونے مجھ کو کیا تو توہی ان برگساں تھا عَلَيْهِمْ وَانتَ عَلى كُل تى شہید اور تو ہر ایک چیز پر گواہ ہے رحمت سے محروم نہیں کیا اور کسی کو عبادت کے ملنے سے اعلے درجہ سے نہیں روکا پس بہی اُن کا کوڑھیوں اور اندھوں کو اچھا کرنا تھا یا اُن کو ناپاکی سے بری کرتا۔جہاں جہاں منجیلوں میں میاں کے اچھا کرنے کا ذکر ہے اس سے یہی مراد ہے اور قرآن مجید میں جو یہ آیتیں ہیں اُن کے یہی معنی میں ی انسان کی۔وحانی موت اُس کا کافر ہوتا ہے حضرت جیسے خدا کی وحدانیت قایم کرنے او خدا کے احکام بتانے سے لوگوں کو اس موت سے زندہ کرتے تھے اور کفر کی موت کے پنجے سے جھالتے تھے جس کی نسبت ندا نے فرمایا۔واذ تخرج الموتى باذنی + گر ہم نے جو اس مقام پر سوت سے کفر اور حیات نے ایمان مراد لیا ہے، اس پر ہم کو کس قدر بحث کرتی اور یہ ثابت کرنا کہ یہ مراد صحیح ہی ضرور ہے - سورہ نحل میں خدا تعالے نئے کافروں پر موت کا اطلاق کیا ہے جہاں فرمایا ہے کہ " تو ہر گز انك لا تسمع الموقى ولا تسمع کنا نہیں سکتا موقعے کو اور نہیں سنا سکتا بہروں کی جیب سے الهم الدعاء اذا ولو مدبرین وہ پیشہ پھیر کر پھریں طور تواند موں کہ اُن کی گمراہی سے راہ پر اذا و حالات بھاری العمر عن ضلالتهم لانے والا نہیں ہے تو نہیں سنا سانتا مگر اُس کو جو ہما ر ہیں ان تسمع الا من يومن با یا تنا نشانیوں پر ایمان لایا ہے پھر وہ مسلمان میں نے فهم مسلمون رسولا نمل) موتنے کے مقابلہ میں " الا من يؤمن " کا لفظ واقع ہوا ہے جو صاف اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ موتنے کا افظ کافروں پر اطلاق کیا گیا ہے۔مشتہرین بھی اس مقام پر کافروں ہی سے مراد لیتے ہیں اور موتی اور جسم اور اعمی کے معنی کالموتی - کا نعم۔کالعمی بیان کرتے ہیں * سورہ فاطر میں اس سے بھی صاف طرح پر احیاء و اصیات کا لفظ سوسن دو کا فر طارق وما يستوع الاخیار کا الاموات ہوا ہے جہاں خدا نے فرمایا ہے کہ برابر نہیں ہوتے احیاء ان الله يسمع من يشاء وما انت یعنی زندے اور اصوات یعنی مردے اللہ تعالے سنا دیتا ہے بمجمع من فی القبور رسو قام جس کو چاہتا ہے اور تو نہیں سنانے والا ہے اُن کو جو قبروں میں میں ؟ تمام مفسرین اس مقام پر بھی اعتبار سے مومن اور اموات سے کہ فرمراد لیتے ہیں تغیر کیر میں لکھا ہے۔تم قال وما يستوى الاعياده الاموات مثلا اخر في حق مومن ۵۴۹