قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 147 of 1460

قندیل ہدایت — Page 147

سورة الم ال عمران - 147 of 1460 تفسیر القران ناها الذين اسنوا إِن تُطِيعُوا فَرِيقًا اے لوگو جو ایمان لائے ہو اگر تم اطاعت کرو گے مِنَ الَّذِينَ أوتوا نكتب ایک فرقہ کی ان میں سے جن کو کتاب گھیٹی ہے يَرُدُّوكُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ بھی دینگے تم کو تمہارے ایمان لانے کے بعد کافر كفيرين وكيف تكفرون وانتم بنا کر اور کون کر تم کا فر ہوگے اور تمہی ہو کر پڑھ لا عَلَيْكُمُ انتَ اللهِ وَفِيكم نائی جاتی میں تم کو مسند کی نشانیاں اور تم میں سنکلی رسُولُهُ وَمَنْ يَعْتَصِمُ بالله رسول ہے اور جو کوئی اللہ کو مضبوط پکڑے تو میشک فَقَدْ هُدى إلى صراط مستقیم اُس کو سیدھا رستہ بتایا گیا 9 تین آدمی اُس کے ملاقاتی تھے ، اُس نے بادشاہ سے اُن کی سفارش کی اور وہ صلیب پر سے اُتارے گئے اور اُن کا معالجہ کیا گیا ، مگر اُن میں سے دو آدمی مر گئے اور ایک شخص اچھا ہو گیا۔حضرت عیسے تین چار گھنٹہ کے بعد صلیب سر اتار لئے گئے تھے اور ہر طرح پر یقین ہوتا ہے کہ وہ زندہ تھے ، رات کو وہ لحد میں سے نکال لئے گئے اور وہ محنتی اپنے مریدوں کی حفاظت میں رہے ، حواریوں نے اُن کو دیکھا اور ملے اور پھر کسی وقت اپنی موت سے مرگئے کہ اللہ اُن کو یہودیوں کی عداوت کے خوف سے نہایت مختقی طور پر کسی نا معلوم مقام میں دفن کر دیا ہو گا جواب تک نا معلوم ہے ، اور یہ شور کیا ہو گا گروہ آسمان پر چلے گئے۔حضرت سونے کی وفات کے وقت بھی نہایت مشبہ تھا کہ بنی اسر نہیں جو پہاڑوں اور جنگلوں میں پھرتے پھرتے اور دشمنوں سے لڑتے لڑتے حضرت موسے کے ہاتھ سے نہایت تنگ ہو گئے تھے حضرت موسے کی لاش کے ساتھ کیا کرینگے اس لئے اُن کو بھی ایک پہاڑ کی کھو میں ایسے نا معلو قمام میں دفن کیا تھا کہ آج تک کسی کو اُس کا پتہ معلوم نہیں ہوا۔چنانچہ توریت کی پانچویں کتاب میں لکھا ہے کہ پس موسسے بندہ خداوند در انجا زمین سو اسب توافقی قول خداوند و قات کرد و او را در دره نرمین مو آب برابر بیت بصور دفن کرد و هیچ کس از مقبره او تا به امروز واقف نیست حضرت علی مرتضے کا جنازہ بھی خوارج کے خوف سے اسی طرح مخفی طور پر وختن کیا گیا تھا حالانکہ خوارج کو خوف پنسبت یہودیوں کے بہت کہ تھا ، اور اسی طرح بعض فرق شہید نے حضرت علی مرتضے کی نسبت بھی کہا تھا کہ دو آسمان پر چلے گئے : اب ہم کو قرآن مجید پر غور کرنا چاہیئے کہ اُس میں کیا لکھا ہے۔قرآن مجید میں حضرت ئینے کی دنیات کے متعلق چار جگہ ذکر آیا ہے جو اول تو سورہ آل عمران میں اور وہ یہی آیت ہے جس کی ہم تفسیر لکھتے ہیں کہ وہ جب اذقال الله يا عيسى الى متهنيك ورافعك اللہ نے پینے سے کہا کہ بے شک میں مجھ کو الى و ال عمران است :