قندیل ہدایت — Page 1453
1453 of 1460 www۔sirat-e-mustaqeem۔com اسلام اور مسیحیت 203 اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ امَنُوا ثُمَّ كَفَرُ ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَّمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلاً ---- (پ۵: ۱۷۶) ”جو لوگ پہلے ایمان لائے پھر کافر ہو کر مرتد ہو گئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہو کر مرتد ہو گئے پھر کفر میں بڑھ گئے خدا ان کو نہیں بخشے گا ورنہ ان کو نجات کا راستہ دکھائے گا۔" یہ آیت صاف بتا رہی ہے کہ بعض لوگ دو دو تین دفعہ مرتد ہوئے۔اگر محض ارتداد کی سزا قتل ہوتی تو پہلے ہی ارتداد کے بعد ان کا خاتمہ کر دیا جاتا۔دوسرے ارتداد کی نوبت ہی نہ آتی۔ہمارے اس بیان پر ایک حدیث کی وجہ سے معارضہ ہونا ممکن ہے اس لئے بغرض توضیح مقام ہم خود اس حدیث کو نقل کر کے اس کی تشریح کئے دیتے ہیں۔جس سے اصل سوال اُٹھ جائے گا۔انشاء اللہ ! حدیث کے الفاظ یہ ہیں ” من بدل دینه فاقتلوه" (جو شخص اپنا دین تبدیل کرے اس کو قتل کر ڈالو۔) اس کی تشریح کرنا ہمارے ذمے ہے۔تشریح سے پہلے ہمیں اسلام کی حیثیت سمجھا دینی ضروری ہے۔پس نئے! اسلام کی تعلیم کے دو حصے ہیں ایک تعبدی، دوسرا سیاسی، تعبدی حصے میں نماز روزہ وغیرہ اخلاق فاضلہ داخل ہیں۔سیاسی حصے میں حکمرانی سے متعلق احکام پائے جاتے ہیں۔اسلام کو بحیثیت سیاسی مذہب ہونے کے جنگ و جدال بھی کرنا پڑتا ہے۔جس میں اس امر کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ کوئی شخص جنگ کی حالت میں جماعت المسلمین سے نہ نکل جائے کیونکہ اس حالت میں اس کا نکل جاتا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ دشمن سے ساز باز رکھتا ہے۔پس ایسا شخص جنگی قانون کے ماتحت واجب القتل ٹھرنا ہے اس تمہید کے بعد ایک اور حدیث سنئے، جو بخاری مسلم کی روایت ہونے کی وجہ سے اعلیٰ درجے کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔المارق لدينه التارك للجماعة (مشكوة باب القصاص) المارق اور التارک دونوں لفظ الگ الگ معنی کے لئے ہیں۔چنانچہ المارق کے معنی ہیں اپنے دین سے پھر جانے والا اور التارك للجماعة" کے معنی ہیں۔جماعت المسلمین یا بالفاظ دیگر جماعت