قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1454 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1454

1454 of 1460 www۔sirat-e-mustaqeem۔com اسلام اور مسیحیت 204 المجاہدین کو چھوڑ کر چلا جانے والا جنگی قوموں میں ایسا شخص دشمن کے حکم میں ہوتا ہے۔پس اس حدیث کی روشنی میں پہلی حدیث کو دیکھیں تو جامع الفاظ یوں ہوں گے۔من بدل دینه ای ترک دین الاسلام و خرج عن جماعت المسلمين اى المجاهدين فاقتلوه پس حدیث مذکورہ کو قران کے ساتھ ملا کر دیکھنے سے نتیجہ صاف نکلتا ہے کہ محض ارتداد موجب قتل نہیں ہے۔ارتداد صرف اسی حالت میں موجب قتل ہے۔جب مرتد شخص مسلمانوں کی بدخواہی کرنے کو دشمن کی جماعت میں جاملے۔آج فوجی قانون کے ماتحت سپاہی کو معمولی سی بات پر کورٹ مارشل کیا جاتا ہے۔جو ضرورت کے لحاظ سے حق بجانب ہے۔پس حدیث زیر بحث میں جنگی قانون مذکور ہے۔جس پر آج ساری دنیا عمل کر رہی ہے۔اگر پادری صاحب بھی فوج میں کسی عہدہ پر فائز ہو جائیں تو اس قانون کی تحسین بلکہ تائید کریں۔یہی معنی ہیں اس مصرع کے۔قاضی اربا ماشنید بر نشاند بر نشاند دست را پس ایسے جنگی قانون کو سامنے رکھ کر اسلام پر آزادی رائے سلب کرنے کا اعتراض ب کرنے کا اعتراض کرنا بے جا ہے۔کیونکہ ہر نقطہ مکانے دارد- اسی جبلت اجتماع پسندی کے ضمن میں پادری صاحب نے ایک سرخی یوں لکھی ہے۔جہالت اجتماع پسندی اور انانیت" اجتماع پسندی سے مراد جماعتی احکام ہیں اور انانیت سے مراد شخصی احکام مثلاً اسلام میں روزه شخصی احکام کی قسم سے ہے۔کیونکہ اس کو دوسرے شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے۔بلکہ اکیلا ہی رکھ سکتا ہے۔اسی طرح اکیلے شخص کی نماز انفرادی حیثیت رکھتی ہے اور جماعت کے ساتھ اجتماعی، علی ہذا القیاس حج اور زکوۃ بھی اجتماعی عبادات ہیں۔اور سب سے بڑا حکم جس پر جماعت کی ترقی موقوف ہے۔یعنی جہاد وہ بھی جماعتی ہے۔جس کی شان میں فرمایا ”ذروة سنامه الجهاد رشتہ داروں سے ملنا جلنا اور اچھا سلوک کرنا بھی اجتماعی کام ہے۔ان سب امور کے متعلق قرآن مجید میں ہدایات ملتی ہیں۔لطف یہ ہے کہ نماز با جماعت جو اجتماعی حالت کا نام ہے