قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1319 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1319

1319 of 1460 1063 لوقا ۲۵:۲۳ ۱۰۶۳ سپا ہی خداوند یسوع کی جنسی اُڑاتے ہیں ہوا، اس لیے کہ اُسے ایک عرصے سے یسوع کو دیکھنے کی خواہش تھی جو آدمی یسوع کو اپنے قبضہ میں لیے ہوئے تھے اُس کی اور اُس نے اُس کے بارے میں بہت سی باتیں سُن رکھی تھیں اور ہنسی اُڑاتے اور اُسے مارتے تھے۔۶۴ وہ اُس کی آنکھوں پر پٹی اُسے امید تھی کہ وہ یسوع کا کوئی معجزہ بھی دیکھ سکے گا۔اُس نے باندھ کر پوچھتے تھے کہ نبوت سے بتا کہ کس نے تجھے مارا ؟ ۲۵ اور یسوع سے بہت کچھ پوچھا لیکن یسوع نے اُسے کوئی جواب نہ دیا۔اُنہوں نے اُس کے خلاف بہت سی کفر آمیز باتیں بھی کہیں۔اور سردار کا ہن اور شریعت کے عالم اُٹھ اُٹھ کر بڑے زور شور خداوند یسوع کی عدالت عالیہ میں پیشی سے اُس پر الزام لگانے لگے۔تب ہیرودیس نے بھی ا۔ں اپنے ۶۶ صبح ہوتے ہی قوم کے بزرگ یعنی سردار کا ہن اور سپاہیوں کے ساتھ مل کر یسوع کی بے عزتی کی اور اس کی جنسی شریعت کے عالم جمع ہوئے اور یسوع کو اپنی عدالت عالیہ میں لاکر اُڑائی۔پھر ایک چمکدار چونہ پہنا کر اسے پیلاطس کے پاس کہنے لگے : اگر تو مسیح ہے تو ہم سے کہہ دے۔واپس بھیج دیا۔۱۲ اسی دن پیلاطس اور ہیرود لیس ایک دوسرے اُس نے اُن سے کہا: اگر میں تم سے کہہ بھی دوں تب بھی تم کے دوست بن گئے حالانکہ اس سے پہلے اُن میں دشمنی تھی۔یقین نہ کرو گے اور اگر تم سے پوچھوں، تو تم جواب نہ دو گے۔تب پیلاطس نے سردار کاہنوں ، حاکموں اور عوام کو لیکن اب سے ابنِ آدم خدا تعالیٰ کی داہنی طرف بیٹھا رہے گا۔جمع کیا ۱۴ اور اُن سے کہا: تم اس شخص کو میرے پاس یہ کہتے ہوئے ے اس پر وہ سب بول اُٹھے کہ کیا تو خدا کا بیٹا ہے؟ لائے ہو کہ یہ لوگوں کو بہکاتا ہے اور میں نے خود بھی تمہارے اُس نے جواب دیا کہ تم خود کہتے ہو کہ میں ہوں۔سامنے پوچھ تاچھ کی مگر جس جرم کا الزام ثم اس پر لگاتے ہو، میں نے ا انہوں نے کہا: اب ہمیں اور گواہی کی کیا ضرورت اُسے اُس کا قصور وار نہیں پایا۔۱۵ اور نہ ہیرودیس نے ، جس نے اُسے ہمارے پاس واپس بھیج دیا۔دیکھو، اُس سے کوئی ایسا فعل سرزد نہیں ہوا جو اُسے قتل کے لائق ٹھہرائے۔۱۶ لہذا میں اُسے ہے؟ کیونکہ ہم نے اس کے منہ سے سن لیا ہے۔پیلاطس کے سامنے پیشی تب وہ سب کے سب اُٹھے اور یسوع کو پٹوا کر چھوڑ دوں گا۔[ اُسے لازم تھا کہ عید کے موقع پر مجرموں پیلاطس کے پاس لے گئے اور اُس پر یہ کہہ کر میں سے کسی ایک کو اُن کی خاطر رہا کر دے۔وہ ایک آواز ہو ۲۳ ۱۸ الزام لگانے لگے کہ ہم نے اسے ہماری قوم کو بہکاتے پایا ہے۔کر چلانے لگے کہ اس آدمی کو ٹھکانے لگا دے اور برآبا کو ہماری وہ قیصر کو ٹیکس ادا کرنے سے منع کرتا ہے اور اپنے آپ کو مسیح بادشاہ کہتا خاطر رہا کر دے۔۱۹ برآبا شہر میں بغاوت اور قتل کے سلسلہ میں قید میں ڈالا گیا تھا۔بادشاہ ہے؟ تب پیلاطس نے اس سے پوچھا: کیا تو یہودیوں کا ۲۰ پیلاطس نے یسوع کو رہا کرنے کے ارادہ سے اُن سے دوبارہ پوچھا۔۲۱ لیکن وہ چلانے لگے کہ تو اسے صلیب دے، یسوع نے اُسے جواب دیا: تو نے خود ہی کہہ دیا۔صلیب دے! پیلاطس نے سردار کاہنوں اور عوام سے کہا: میں اس ۲۲ تب اُس نے اُن سے تیسری بار کہا: کیوں؟ آخر اُس نے کون سا جرم کیا ہے؟ میں نے اُس میں ایسا کوئی قصور نہیں پایا کہ شخص میں کوئی قصور نہیں پاتا۔۵ لیکن وہ اصرار کر کے کہنے لگے۔وہ یہودیہ میں گلیل سے وہ سزائے موت کا مستحق ہو۔اس لیے میں اُسے پٹوا کر چھوڑے دیتا ہوں۔لے کر یہاں تک لوگوں کو سکھا تا اور اُکساتا ہے۔جب پیلاطس نے یہ سنا تو اس نے پوچھا: کیا یہ آدمی گلیلی ۲۳ لیکن وہ چلا چلاکر مطالبہ کرنے لگے کہ وہ مصلوب کیا ہے؟ اور جونہی اسے معلوم ہوا کہ وہ ہیرودیس کی عملداری کا جائے اور اُن کا چڑانا کارگر ثابت ہوا۔۲۴ پس پیلاطس نے اُن ہے، اُسے ہیرودیس کے پاس بھیج دیا جو اُن دنوں خود بھی پیرو فلیم کی درخواست کے مطابق موت کا حکم صادر کر دیا۔۲۵ اور جو آدمی بغاوت اور خون کے جرم میں قید میں تھا اور جس کی رہائی کے لیے میں تھا۔ہیرودیس کے سامنے پیشی جب ہیرودیس نے یسوع کو دیکھا تو نہایت ہی خوش کے موافق سپاہیوں کے حوالے کر دیا۔اُنہوں نے درخواست کی تھی اُسے چھوڑ دیا مگر یسوع کو اُن کی مرضی