قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1320 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1320

1320 of 1460 1092 ۲۲ يو حتا ٢٢:١٩ ۱۰۹۲ پیلاطس نے جواب دیا: میں نے جو کچھ لکھ دیا وہ لکھ دیا۔پہلی چھید ڈالی جس سے فوراً ٹون اور پانی بہنے لگا۔۳۵ جو شخص ۲۳ جب سپاہی یسوع کو مصلوب کر چکے تو انہوں نے یسوع اس واقعہ کا چشم دید گواہ ہے وہ گواہی دیتا ہے اور اُس کی گواہی سچی کے کپڑے لیے اور اُن کے چار حصے کیے تا کہ ہر ایک کو ایک ایک ہے۔وہ جانتا ہے کہ وہ سچ کہ رہا ہے تا کہ تم بھی ایمان لاؤ۔حصہ مل جائے۔صرف اُس کا گر تا باقی رہ گیا جو بغیر کسی جوڑ کے یہ ساری باتیں اس لیے ہوئیں کہ پاک کلام کا لکھا ہوا اُوپر سے نیچے تک بنا ہو ا تھا۔پورا ہو جائے کہ ” اُس کی کوئی ہڈی نہ توڑی جائے گی۔۳۷ اور ۲۴ ا نہوں نے آپس میں کہا کہ اس کے ٹکڑے کرنے کی پاک کلام ایک اور جگہ کہتا ہے کہ وہ اُس پر جسے اُنہوں نے چھید بجائے اس پر قرعہ ڈال کر دیکھیں کہ یہ کس کے حصہ میں آتا ہے۔ڈالا نظر کریں گے۔“ یہ اس لیے ہوا کہ پاک کلام کا لکھا ہوا پورا ہو جائے کہ خداوند یسوع کی تدفین ان باتوں کے بعد ایک شخص یوسف جوار متیا کا باشندہ تھا اُنہوں نے میرے کپڑے آپس میں بانٹ لیے پیلاطس کے پاس گیا اور اُس سے یسوع کی لاش کو لے جانے کی اور میری پوشاک پر قرعہ ڈالا۔چنانچہ سپاہیوں نے یہی کیا۔۲۶ اجازت مانگی۔یہ شخص یہودیوں کے ڈر کی وجہ سے خفیہ طور پر یسوع کا شاگر د تھا۔وہ پیلاطس سے اجازت لے کر آیا اور یسوع کی لاش کو لے گیا۔۳۹ نیکو دیمکس بھی آیا جس نے کچھ عرصہ پہلے یسوع کی صلیب کے پاس اُس کی ماں، ماں کی بہن یسوع سے رات میں ملاقات کی تھی۔وہ اپنے ساتھ مُر اور عود ایسی مریم جو کلو پاس کی بیوی تھی اور مریم مگر لینی کھڑی تھیں۔4 جب چیزوں سے بنا ہوا خوشبودار مسالہ لا یا تھا جو وزن میں تقریباً پچاس يسوع نے اپنی ماں کو اور اپنے ایک عزیز شاگرد کو نزدیک ہی سیر کے برابر تھا۔کھڑے دیکھا تو ماں سے کہا: اے خاتون ! اب سے تیرا بیٹا یہ ۴۰ ان دونوں نے یسوع کی لاش کو لے کر اُسے اُس ہے۔۲۷ اور شاگرد سے کہا: اب سے تیری ماں یہ ہے۔وہ شاگرد خوشبودار مسالے سمیت ایک سوتی چادر میں کفنایا جس طرح یہودیوں میں دفن کرنے کا دستور تھا۔۴۱ جس مقام پر یسوع کو مصلوب کیا اُسی وقت اُسے اپنے گھر لے گیا۔خداوند یسوع کی موت ۲۸ گیا تھا وہاں ایک باغ تھا اور اُس باغ میں ایک نئی قبر تھی جس میں جب یسوع نے جان لیا کہ اب سب باتیں تمام ہوئیں تو پہلے کوئی لاش نہیں رکھی گئی تھی۔۴۲ چونکہ یہ یہودیوں کی تیاری کا اس لیے کہ پاک کلام کا لکھا پورا ہو اُس نے کہا: ” میں پیاسا ہوں۔دن تھا اور قبر نزدیک تھی ، انہوں نے یسوع کو وہاں رکھ دیا۔۲۹ نزدیک ہی ایک مرتبان سر کے سے بھرا رکھا تھا۔اُنہوں نے اسفنج کو سر کے میں ڈبو کر سر کنڈے کے سرے پر رکھ کر یسوع کے ہونٹوں سے لگایا۔۳۰ یسوع نے اُسے پیتے ہی کہا: ” پورا ہوا اور سر جھکا کر جان دے دی۔خالی قبر ہفتہ کے پہلے دن صبح سویرے جب کہ اندھیرا ہی تھا مریم مگد لینی قبر پر آئی۔اس نے یہ دیکھا کہ قبر کے منہ سے پتھر ہٹا ہوا ہے۔وہ دوڑ تی ہو ئی شمعون پطرس اور ا یہ مسیح کی تیاری کا دن تھا اور اگلا دن خصوصی سبت تھا۔اُس دوسرے شاگرد کے پاس پہنچی جو یسوع کا چہیتا تھا اور کہنے یہودی نہیں چاہتے تھے کہ سبت کے دن لاشیں صلیبوں پر ٹنگی لگی : وہ خداوند کو قبر میں سے نکال کر لے گئے ہیں اور پتا نہیں اُسے رہیں۔لہذا انہوں نے پیلاطس کے پاس جا کر درخواست کی کہ کہاں رکھ دیا ہے۔زموں کی ٹانگیں توڑ کر اُن کی لاشوں کو نیچے اُتار لیا جائے۔یہ سنتے ہی پطرس اور وہ دوسرا شاگرد قبر کی طرف چل چنا نچہ سپاہی آئے اور انہوں نے پہلے اُن دو آدمیوں کی ٹانگیں دیئے۔دونوں دوڑے جارہے تھے لیکن وہ دوسرا شاگرد پطرس توڑیں جنہیں یسوع کے ساتھ مصلوب کیا گیا تھا۔۳ لیکن جب سے آگے نکل گیا اور اس سے پہلے قبر پر جا پہنچا۔اُس نے جھک یسوع کی باری آئی تو انہوں نے دیکھا کہ وہ تو پہلے ہی مر چکا ہے کر اندر جھانکا اور سوتی کپڑے پڑے دیکھے لیکن اندر نہیں گیا۔لہذا انہوں نے اُس کی ٹانگیں نہ توڑیں۔۳۴ مگر سپاہیوں میں اُس دوران پطرس بھی پیچھے پیچھے وہاں پہنچ گیا اور سیدھا قبر میں سے ایک نے اپنا نیزہ لے کر یسوع کے پہلو میں مارا اور اُس کی داخل ہو گیا۔اُس نے دیکھا کہ وہاں سوتی کپڑے پڑے ہوئے