قندیل ہدایت — Page 1318
1318 of 1460 1026 سب ۵۴ مرقس ۵۴:۱۴ ۶۹ ۹ جب اُس کنیز نے اُسے وہاں دیکھا تو اُن سے جو پاس ،سردار کا ہن، یہودی بزرگ اور شریعت کے عالم جمع تھے۔اور پطرس بھی دُور سے یسوع کا پیچھا کرتے ہوئے سردار کاہن کھڑے تھے ایک بار پھر کہا: یہ آدمی اُن ہی میں سے ہے۔کی حویلی کے اندر صحن تک جا پہنچا۔وہاں وہ پہرہ داروں کے ساتھ ۷۰ پطرس نے پھر انکار کیا۔بیٹھ کر آگ تاپنے لگا۔تھوڑی دیر بعد وہ لوگ جو پاس کھڑے تھے پطرس سے پھر سردار کا ہن اور عدالت عالیہ کے سب ارکان کسی ایسی کہنے لگے : یقیناً تو اُن ہی میں سے ہے کیونکہ تو بھی تو کلیلی ہے۔شہادت کی تلاش میں تھے جس کی بنا پر وہ یسوع کو قتل کروا سکیں مگر نہ ا تب پطرس بولا : میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس شخص کی پاسکے۔۵۶ اور جنہوں نے جھوٹی گواہیاں دیں اُن کے بیان بھی تم بات کر رہے ہو میں اُسے بالکل نہیں جانتا اور اگر میں جھوٹا ہوں یکساں نہ نکلے۔۵۷ بعض آدمیوں نے کھڑے ہو کر اُس کے خلاف یہ جھوٹی ے عین اُسی وقت مُرغ نے دوسری دفعہ بانگ دی۔تب گواہی دی کہ ۵۸ ہم نے اُسے یہ کہتے سنا ہے کہ میں اس مقدس کو جو پطرس کو یاد آیا کہ یسوع نے اُس سے کہا تھا کہ مُرغ کے دو بار ہاتھ کا بنا ہوا ہے، ڈھاڈوں گا اور تین دن میں دوسرا کھڑا کر دوں گا جو بانگ دینے سے پہلے تو تین بار میرا انکار کرے گا اور اس بات پر ہاتھ کا بنا ہوا نہ ہوگا۔مگر اس دفعہ بھی ان کی گواہی یکساں نہ تھی۔غور کر کے وہ ہر ریٹا۔۲۰ تب سردار کا ہن اُن کے بیچ میں کھڑے ہو کر یسوع سے پیلاطس کی عدالت میں یسوع کی پیشی پوچھنے لگا: کیا تیرے پاس کوئی جواب نہیں؟ یہ تیرے خلاف کیا گواہی صبح ہوتے ہی سردار کاہنوں نے یہودی بزرگوں، دے رہے ہیں؟ لیکن وہ خاموش رہا اور کوئی جواب نہ دیا۔تو مجھ پر لعنت ہو۔۱۵ شریعت کے عالموں اور عدالت عالیہ کے باقی سردار کا بہن نے ایک بار پھر پوچھا: کیا تو مبارک خدا کا بیٹا اراکین سے مل کر مشورہ کیا اور فیصلہ کر کے یسوع کو بندھوایا اور لے جا کر پیلاطس کے حوالہ کر دیا۔صحیح ہے؟ یسوع نے جواب دیا : ہاں، میں ہوں اور تم ابنِ آدم کو پیلاطس نے اُس سے پوچھا: کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟ ہے؟ ۶۳ قادر مطلق کی دائیں طرف بیٹھا اور آسمان کے بادلوں میں آتا دیکھو گے۔اُس نے جواب دیا : تو خود ہی کہہ رہا ہے۔تب سردار کا ہن نے اپنے کپڑے پھاڑ کر کہا: اب ہمیں سردار کا ہن اُس پر طرح طرح کے الزام لگانے لگے۔گواہوں کی کیا ضرورت ہے؟ ۶۴ تم نے یہ کفر سنا، تمہاری کیا رائے لہذا پیلاطس نے اُس سے دوبارہ پو چھا اور کہا: کیا تیرے پاس کوئی جواب نہیں؟ دیکھ ! یہ تجھ پر کتنی باتوں کا الزام لگا رہے ہیں۔اُن سب کا فیصلہ یہ تھا کہ اُسے موت کی سزا دی جائے۔لیکن پھر بھی یسوع نے کوئی جواب نہیں دیا اور پیلاطس ۶۵ اُن میں سے بعض یسوع پر تھوکنے لگے اور اُس کی آنکھوں پر کو بڑا تعجب ہوا۔پٹی باندھ کر اُسے منگے مار مار کر پو چھنے لگے کہ اگر تو نبی ہے تو بتا کہ پیلاطس کا دستور تھا کہ وہ عید پر ایک ایسے قیدی کو رہا کر دیتا کس نے تجھے مارا؟ اور عدالت کے سپاہیوں نے اُسے طمانچے تھا جس کی رہائی کی لوگ درخواست کرتے تھے۔برا با نام ایک آدمی اُن باغیوں کے ساتھ قید میں تھا جنہوں نے بغاوت کے مارے اور اپنے قبضہ میں لے لیا۔پطرس کا انکار کرنا دوران خون کیا تھا۔عوام ایک ہجوم کی شکل میں پیلاطس کے بھی پطرس نیچے صحن ہی میں تھا کہ سردار کا بہن کی ایک حضور میں جمع ہوئے اور اُس سے عرض کرنے لگے کہ اپنے دستور کنیز وہاں آئی۔" اس نے پطرس کو آگ تاپتے دیکھ کر اس پر کے مطابق عمل کر۔نظر ڈالی اور کہنے لگی: تو بھی اُس یسوع ناصری کے ساتھ تھا۔پیلاطس نے جواب میں کہا: کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے لیے یہودیوں کے بادشاہ کو چھوڑ دوں؟ کیونکہ پیلاطس کو بخوبی ۶۸ مگر اُس نے انکار کیا اور کہا: میں کچھ نہیں جانتا اور سمجھتا علم تھا کہ سردار کاہنوں نے محض حسد کی بنا پر یسوع کو اُس کے حوالہ کہ تو کیا کہہ رہی ہے اور وہ باہر دیوڑھی میں چلا گیا اور مرغ نے کیا ہے۔مگر سردار کاہنوں نے ہجوم کو اُکسایا کہ پیلاطس سے بانگ دی۔تقاضا کریں کہ وہ اُن کی خاطر بر اتبا کو چھوڑ دے۔