قندیل ہدایت — Page 1317
1317 of 1460 1004 متی ۱۲:۲۷ ۱۲ اور جب سردار کا ہن اور بزرگ اُس پر الزام لگانے لگے کے ارد گرد جمع کیا۔۲۸ اُنہوں نے اُس کے کپڑے اُتار ڈالے اور تو اُس نے کوئی جواب نہ دیا۔اس پر پیلاطس نے اُس سے کہا: ایک قرمزی چوغہ پہنا دیا۔۲۹ پھر کانٹوں کا تاج بنا کر اُس کے سر دیکھ! یہ تیرے خلاف کیا کیا کہہ رہے ہیں، کیا تو سُن نہیں رہا؟ پر رکھا اور اُس کے داہنے ہاتھ میں ایک سرکنڈا تھا دیا اور اُس کے ۱۴ لیکن یسوع نے جواب میں ایک لفظ بھی نہ کہا اور پیلاطس کو بڑا سامنے گھٹنے ٹیک ٹھیک کر اُس کی ہنسی اڑانے لگے کہ اے یہودیوں کے بادشاہ ، آداب ! " وہ اُس پر تھوکتے تھے اور سرکنڈا لے کر اُس تعجب ہوا۔۱۷ ۱۵ حاکم کا دستور تھا کہ وہ عید پر ایک قیدی کو جسے لوگ چاہتے کے سر پر مارتے تھے۔تھے چھوڑ دیا کرتا تھا۔اُس وقت اُن کا ایک آدمی قید میں تھا جو ا جب اُس کی ہنسی اُڑا چکے تو چوغہ اُتار کر اُس کے اپنے برآبا کے نام۔سے مشہور تھا۔جب وہ لوگ پیلاطس کے کپڑے اُسے پہنائے اور وہاں سے لے کر چل دیئے تا کہ اُسے حضور میں جمع ہوئے تو پیلاطس نے اُن سے پوچھا: تم کیا چاہتے صلیب دیں۔ہو، میں کیسے تمہاری خاطر رہا کروں ؟ برآبا کو یا یسوع کو جو مسیح کہلاتا خداوند یسوع کا صلیب پر چڑھایا جانا ہے؟ ۱۸ کیونکہ اُسے بخوبی علم تھا کہ انہوں نے محض حسد کی وجہ جب وہ وہاں سے نکل رہے تھے تو انہیں گرین کا ایک آدمی ملا جس کا نام شمعون تھا۔اُنہوں نے اُسے بیگار میں پکڑا تاکہ ۱۹ ۳۲ سے اُسے پکڑوایا ہے۔'جب پیلائٹس عدالت کی کرسی پر بیٹھا تو اس کی بیوی نے وہ یسوع کی صلیب اٹھالے چلے اور گلگتا نام کے مقام پر پہنچے اُسے یہ پیغام بھیجا کہ اس نیک آدمی کے خلاف کچھ مت کرنا کیونکہ جس کا مطلب ہے کھوپڑی کی جگہ " وہاں انہوں نے یسوع کو میں نے آج خواب میں اس کے سبب سے بہت دُکھ اُٹھایا ہے۔دُکھ مرملی ہوئی کے پینے کے لیے دی لیکن اُس نے چکھ کر اسے پینے سے ۲۰ لیکن سردار کاہنوں اور بزرگوں نے لوگوں کو ابھارا کہ وہ انکار کر دیا۔۳۵ جب وہ اُسے صلیب پر چڑھا چکے تو کر عد ڈال کر اس پیلاطس سے برآبا کی رہائی کا مطالبہ کریں اور یسوع کو مروا ڈالیں۔کے کپڑوں کو آپس میں بانٹ لیا ۳۶ اور وہیں بیٹھ کر اُس کی نگہبانی جب حاکم نے اُن سے پوچھا: ثم ان دونوں میں سے کیسے کرنے لگے ۳۷ اور اُنہوں نے اُس کا الزام ایک تختی پر لکھ کر اس چاہتے ہو کہ میں تمہارے لیے چھوڑ دوں تو انہوں نے کہا : بر آبا کو۔کے سر کے اوپر کی جگہ پر لگا دیا کہ یہ ” یہودیوں کا بادشاہ پیلاطس نے اُن سے کہا: پھر میں یسوع کو جو مسیح کہلاتا یسوع ہے۔۳۸ اُس وقت اُس کے ساتھ دو ڈاکو بھی مصلوب ہوئے۔ایک اُس کی دائیں اور دوسرا بائیں طرف۔وہاں سے گزرنے والے سب لوگ سر ہلا ہلا کر یسوع کولعن طعن کرتے تھے اور ۲۱ ۲۲ ۳۹ ہے کیا کروں؟ سب بول اُٹھے کہ اُسے صلیب دی جائے۔۲۳ حاکم نے کہا: کیوں؟ اُس نے کیا بُرائی کی ہے؟ کہتے تھے: "اے ہیکل کے ڈھانے والے اور تین دن میں بنانے لیکن وہ اور بھی چلا چلا کر کہنے لگے کہ اُسے صلیب دی جائے۔والے ! اپنے آپ کو بچا۔اگر تو خدا کا بیٹا ہے تو صلیب پر سے اتر آ۔۲۴ جب پیلاطس نے دیکھا کہ کچھ بن نہیں پڑ رہا بلکہ الٹا اسی طرح سردار کا ہن ،شریعت کے عالم اور بزرگ بھی بلوا شروع ہونے کو ہے تو اُس نے پانی لے کر لوگوں کے سامنے اُس کی ہنسی اُڑاتے تھے اور کہتے تھے: " اس نے اوروں کو بچایا اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا: میں اِس راستباز کے خون سے بری ہوتا لیکن اپنے آپ کو نہیں بچاسکا، یہ تو اسرائیل کا بادشاہ ہے! اگر اب بھی ہوں تم جانو اور تمہارا کام۔صلیب پر سے اتر آئے تو ہم اُس پر ایمان لے آئیں گے۔۴۳ اس کا ۲۵ اور تمام لوگوں نے جواب دیا: اس کا خون ہم پر اور تو کل خدا پر ہے۔اگر خدا اسے چاہتا ہے تو اب بھی اسے بچالے۔کیونکہ اس نے کہا تھا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں۔اسی طرح وہ ڈاکو ہماری اولاد کی گردن پر۔۲۶ اس پر پیلاطس نے اُن کی خاطر بر آبا کو رہا کر دیا اور یسوع بھی جو اُس کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے اُسے بُرا بھلا کہتے تھے۔کو کوڑے لگوا کر اُن کے حوالہ کیا تا کہ اُسے صلیب پر چڑھایا جائے۔خداوند یسوع کی موت سپاہی خداوند یسوع کی جنسی اُڑاتے ہیں بارہ بجے سے لے کر تین بجے تک سارے ملک میں تب پیلاطس کے سپاہیوں نے یسوع کو شاہی قلعہ کے اندھیرا چھایا رہا اور تین بجے کے قریب یسوع بڑی اونچی آواز اندرونی صحن میں لے جا کر فوجی دستہ کے سارے سپاہیوں کو اس سے چلا یا: ایلی، ایلی، لاشبقتنی ، جس کا مطلب ہے: اے میرے ۴۵