پیاری مخلوق — Page 57
کی دلیل بنی۔۵۷ آپ کی اس روحانی طاقت کا حضرت موسی نے بھی بڑے واضح الفاظ میں اعتراف کیا کہ وہ خدا تعالیٰ کی تجلتی کو کوہ طور پر بھی نہ دیکھ سکے لیکن میرے آقا کا وجود ساری زندگی اس نور کے ظہور کا مظہر بنا رہا۔اسی وجہ سے خدائے ذوالجلال نے نبوت کا سب سے بڑا انعام سب سے بڑا درجہ اور مقام آپ کو عطا کیا۔آپ خاتم النبیین کہلائے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں تو اس وقت سے خاتم النبیین ہوں۔جب آدم کا وجود مٹی میں کروٹیں لے رہا تھا۔آپ نبیوں کی مہر بنے۔اور ہر نبی اسی مہر کی صداقت کے ساتھ دنیا میں آیا۔پھر حضرت محمد مصطفے کی صداقت کا اپنی امت سے عہد لیتا رہا کہ ایک ایسا وجود پیدا ہوگا جس پر خُدا ظاہر ہوگا۔آپؐ کی ذات نبی تراش ہے۔اور اب تو خدا کی محبت کو حاصل کرنے کے لئے لازمی ہے کہ آپ کی اطاعت کی جائے۔اور جس طرح پہلے نبی آپ کی گواہی سے آئے اب بھی یہ انعام اُسی کو مل سکتا ہے جو آپ کا اُمتی اور عاشق ہو۔مکمل طور پر اسلام کے احکامات پر عمل پیرا ہو۔اس زمانے میں به انعام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کو ملا۔حضرت محمد سے مصطفے خدا تو نہیں تھے لیکن خدا نما وجود تھے۔ایسے کامل انسان جس میں تمام انسانی کمالات - صفات اپنے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچی تھیں۔اپنے خدا سے عشق کو دیکھیں تو کوئی حد دکھائی نہیں دیتی۔مکہ کے افراد نے گواہی دی کہ محمد اپنے رب پر عاشق ہو گیا ہے۔