پیاری مخلوق — Page 56
۵۶ صفات کا مالک ہے۔جب ہم ان بیان کردہ حقائق کی روشنی میں اپنے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہیں۔تو یہ جان کر ہماری روح وجد میں آجاتی ہے کہ تمام انبیاء میں سے صرف آپ ایک منفرد اور ارفع مقام پر فائز ہیں۔ہر نبی کی زندگی خدا تعالیٰ کی ایک یا ایک سے زیادہ صفات کے ظہور کا ذریعہ بنی لیکن حضرت سید ولد آدم کی بابرکت زندگی تمام صفات خداوندی کی نہ تھی۔کیونکہ گزشتہ انبیاء کی زندگیوں میں ظاہر ہونے والی صفات اپنے نقطہ کمال پر نہیں تھیں۔جبکہ سرور کونین نے ہر صفت کے ہر پہلو کو اس کے انتہائی نقطۂ کمال تک ظاہر کیا۔اللہ تعالیٰ کی منشا کے تحت ہر نبی نے ان صفات کے ظہور کے لئے جن کا ظاہر ہونا مقدر تھا۔اتنی ہی قوت سے خدائی تجلی کو جذب کیا۔جتنی ان کی اپنی استعداد یا باطنی قوت تھی۔لیکن میرے آقا بادی دو جہاں نے الہی تجلی کو اس کے پورسے کمال اور طاقتوں کے ساتھ اپنے وجود میں جذب کیا۔پھر اس کی روشنی اس پاک وجود کے ہر ذرہ سے سے پھوٹی۔تو عالم کا عالم منور ہو گیا۔ان تمام حقائق سے آپ اندازہ تو لگائیے۔کہ میر سے آقا رحمت للعالمین کی روحانی طاقت۔آپ کی استعداد اور قوت جذب کتنے بلند مقام پر تھی کہ آپک نے خدائی صفات کو ظاہر کیا کس قدر طاقتور تھی وہ ذات جو بشریت کے مقام پر ہوتے ہوئے روحانیت کے اعلیٰ مدارج کو عبور کر گئی۔اور انسانیت کی عظمت