پیاری مخلوق

by Other Authors

Page 50 of 60

پیاری مخلوق — Page 50

خالق ہی تمام خوبیوں اور قدرتوں کا جامع (مالک) ہے۔چنانچہ اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالٰی نے اپنے نور سے ایک نوکر پیدا کیا۔اس کا نام نور محمدی رکھا۔اس نور کے لئے اُس نے سارے نظام شمسی میں سے زمین کو چنا۔اور پھر نہ صرف اس نظام کے باقی مبرز گروں کو بلکہ اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کہکشاؤں کو اس زمین کی خدمت پر مامور کر دیا۔تاکہ یہ کرہ ارض صحیح معنوں میں جانداروں کی ضرورت کے مطابق تیار ہو جائے۔اب اس نور کو وہ کیسا جسم دے کیونکہ نور کو نظر آنے کے لئے مادی وجود کی ضرورت تھی۔چنانچہ تمام مخلوقات میں سے جو ساخت میرے خدا کو پسند آئی وہ ہم انسانوں کا جسم تھا۔اسی لئے اس جسم کو اس ساخت کو اس نے موزوں ترین حالت میں بنایا۔اور اس کو اپنی بہترین مخلوق کہا۔لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْدِيم - (سورة التين) اس بہترین مخلوق میں سے نیک پاک وجودوں کو نبوت کے انعام سے نواندا۔جن کے ذریعہ انسان اس قابل ہوا کہ وہ خدا تعالیٰ کی صفات کو جان سکے۔اور اس کی قدرتوں کو مان کر - جان کر۔پہچان کر اطاعت کر سکے۔اس کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنے انبیاء علیہم السلام کو انسانوں کی ضرورت کے مطابق اپنی ایک یا ایک سے زیادہ صفات کا مشاہدہ کر وایا ہے اور وہی صفات ان کے وجود میں بھی ظاہر ہوئیں۔اب ہم پہلی صفت کہ وہ رب العالمین ہے۔اس لئے وہ قدرت رکھتا ہے۔کہ جب چاہے جس کو چاہے انسانیت کی ہدایت کے لئے چن ہے۔اور پھر اس انسان کو ایسی خوبیاں عطا کر دے جنہیں دیکھ کر عام