پیاری مخلوق

by Other Authors

Page 49 of 60

پیاری مخلوق — Page 49

۴۹ مخنوق جمادات ہے۔پھر اس سے کم نباتات ہیں۔لیکن وہ بھی تعداد کے لحاظ سے جانوروں سے بہت زیادہ ہیں۔اگر یہ نہ ہوں تو یہ جانور بھو کے مر جائیں۔پھر تمام دنیا میں پائی جانے والی جاندار مخلوق کو دیکھیں تو ان کی تعداد انسانوں سے کہیں زیادہ ہے۔صرف بیکٹیریا کو ہی دیکھیں تو وہ منٹوں میں بڑھ کر سینکڑوں تک پہنچ جاتے ہیں۔لیکن انسان نہ تو اتنی جلدی اور نہ ہی اتنی تعداد میں پیدا ہوتے ہیں۔اس لئے ان کی تعداد جانوروں کے مقابلہ میں کم ہے۔پھر انسانوں میں بھی فطرت کے مطابق زندگی گزارنے والے زیادہ نہیں لیکن با اخلاق انسان ان سے بھی کم ہیں۔بااخلاق انسان آپ کو لاکھوں یا کروڑوں مل جائیں گے۔مگر باخدا اتنے نہیں ہوتے۔پھر باخدا افسانوں میں سے نبی کا درجہ حاصل کرنے والے ان سے بھی کم ہیں۔اب آپ خدا تعالیٰ کی تمام مخلوقات سے سرسری ملاقات کے بعد جان چکے ہیں کہ یہ کائنات رب العالمین کی خاص منشا اور مصلحت کے تحت وجود میں آئی ہے اور آپ کے اس سوال کا جواب کہ خدا تعالٰی نے کیا کیا پیدا کیا ؟ وہ بھی مل گیا۔لیکن دوسرا سوال کہ ہمیں سب سے افضل کیوں بنایا ؟ اس کی وجہ تلاش کرتے ہوئے جب ہم احادیث کی طرف گئے تو معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ ایک پیارا اور پوشیدہ خزانہ ہے۔وہ ایک نور ہے۔اور نظر نہیں آسکتا۔لیکن اس نے چاہا کہ وہ ظاہر ہو اور جو صفات اس کے اندر پائی جاتی ہیں وہ بھی نظر آسکیں تاکہ اس کی عظمت اس کی قدرت۔اس کی شان و شوکت۔اس کے جاہ و جلال سے مخلوق واقف ہو۔اور پھر وہ اس ایمان کے ساتھ اس کے ساتھ تعلق پیدا کریں کہ ہمارا رب ہمارا