پیاری مخلوق

by Other Authors

Page 45 of 60

پیاری مخلوق — Page 45

۴۵ حد تک محفوظ ہے۔پھر اس کی ناک ، منہ اور آنکھیں بھی زمین سے دُور ہیں۔یوں قدرتی طور پر صفائی ستھرائی اور پاکیزگی کا انتظام ہوا۔اس طرح وہ بہت سے جراثیم سے محفوظ ہو گیا۔انسان جانور کے مقابلے میں ایک حد تک وزن اُٹھانے میں کسی کی مدد کا محتاج نہیں جبکہ جانور پر لاد نا پڑتا ہے۔وہ خود نہیں اُٹھا سکتا۔پھر اللہ تعالے نے انسانوں کے ہاتھوں میں انگلیاں بنائیں۔اور ہر ا نگلی کا اپنا الگ کام ہے۔لیکن انگوٹھا بنا کر ہا تھ کو کئی گنا قوت عطا کر دی۔اگر یہ نہ ہو تو گرفت نہ رہے۔آپ کسی بھی چیز کو پکڑتے ہیں تو انگلیوں کے ساتھ انگوٹھا آپ کی مدد کرتا ہے۔یہ تو چند مثالیں ہیں۔اگر آپ تفصیل سے ایک ایک عضو پر غور کریں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔کہ خالق انسان نے کسی محبت سے اس بہترین مخلوق کو بنایا۔کی تخلیق سے الگ۔انوکھا حسن عطا کیا۔نرالی خوبیاں دیں اور پسندیدہ ادائیں دے کر سب سے جدا اور ممتاز شان عطا کی۔اب ہم فطرت پر غور کرتے ہیں کہ یہ کیا ہے۔اور مخلوقات میں کیسے کام کرتی ہے۔اور کیا یہ بدلی جاسکتی ہے ؟ فطرت در اصل ایک پروگرام ہے جو اللہ تعالی مخلوقات کی تخلیق کے ساتھ اس کے ذرات میں ڈال دیتا ہے۔جیسے کمپیوٹر میں ہوتا ہے کہ وہ اپنا کام اس پروگرام کے مطابق کرتا ہے جو اس میں فیڈ (FEED) ہوتا ہے۔انسان کے علاوہ دوسری مخلوقات میں صرف زندگی کا پروگرام فیڈ ہوتا ہے۔لیکن انسان میں جہاں پروگرام فیڈ ہوتا ہے وہاں اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ خود اپنی