پیاری مخلوق

by Other Authors

Page 44 of 60

پیاری مخلوق — Page 44

۴۴ کہلانے کا مستحق ہے۔یہی انسانیت کا حسن ہے۔اب آپ نے دیکھا کہ صحیح انسان بننے کے لئے ہمیں کیسا ہونا چاہئیے ؟ کیونکہ ہمارے پیار سے خدا نے ہمیں جسمانی لحاظ سے بھی ساری مخلوقات میں سے بہتر اور موزوں حالت میں بنایا ہے آپ کے ذہن میں یقینا یہ سوال پیدا ہو رہا ہے۔کہ موزوں حالت۔احسن حالت۔کیا ہے؟ آپ اپنے وجود پر اور جانوروں کے وجود پر غور کریں۔ان کی حرکات کو دیکھیں کہ وہ کیسے زندگی گزارتے ہیں۔یہاں انسان کے آرام و آسائش کا ذکر نہیں۔صرف بات یہ ہو رہی ہے۔کہ مثلاً ایک جنگل میں دوسر سے جانوروں کے ساتھ ایک انسان بھی ہے۔اور وہ بھی ان کی طرح رہ رہا ہے۔بغیر گھر کے۔صرف آپ اس کی جسمانی ساخت کو مد نظر رکھیں۔تو معلوم ہوگا۔کہ مد وہی تمام اعضاء جو جانوروں میں ہیں انسان میں بھی ہیں۔صرف نام کا فرق ہے مثلاً - حیوانات کی چار ٹانگیں ہیں۔ہمارے دو ہاتھ دو ٹانگیں ہیں۔کیونکہ ہم ہاتھوں سے کام لیتے اور ٹانگوں سے چلتے ہیں۔اور جانور چاروں سے چلتے ہیں۔اب آپ ایک انسان اور گائے یا بکری کو سامنے کھڑا کریں تو گائے اپنی جگہ پیاری ہے۔بکری اپنی جگہ اچھی معصوم لگ رہی ہے۔لیکن خوبصورتی اور اعضاء کا بهترین تناسب صرف انسان میں نظر آتا ہے۔اور اسی تناسب کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے انسان کو حیوان سے ممتاز کر دیا۔اس کی کمر کو عمودی حالت میں رکھ کر سیدھا کھڑا کیا جبکہ جانور کی کر زمین کے متوازی ہوتی ہے۔اس کا کنٹرول ٹاور یعنی ذہن اوپر ہوتا ہے۔اور ٹکرانے۔چوٹ کھانے سے بہت لے : سورة التين :