پیاری مخلوق — Page 46
۴۶ طبیعت کے مطابق بھی پروگرام بنا ہے۔اور اس کے مطابق زندگی گزارے۔لیکن جانور اس اختیار سے محروم ہوتے ہیں۔ان کی فطرت میں جو بات رکھی گئی ہے وہ ان کی نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔مثلاً شیر کی فطرت میں کچا گوشت کھانا رکھا اور جنگل کا بادشاہ بنا دیا۔گویا - اس کو ایک رعب ، دبدبہ ملا۔وہ آج بھی اُسی طریق پر زندگی گزارتا ہے جانوروں کا شکار کرتا ہے۔پہلے ان کا خون پیتا ہے۔اس کے دانت سید ھے ان کی شہ رگ میں جاتے ہیں۔پھر گوشت کھاتا ہے۔ہزاروں سال سے اس طریقہ میں کوئی فرق نہیں پڑا۔پھر پرندوں میں بٹے کو دیکھیں وہ اپنا گھونسلہ بن کر تیار کرتا ہے۔اس کو سجاتا ہے۔روشنی کے لئے جگنو پکڑ کر لاتا ہے اور تنکوں میں پھنسا دیتا ہے۔وہ اس کے لئے بلب کا کام دیتا ہے۔یہ اس کی فطرت ہے اور ہر بئے کا گھونس۔ایسا ہی ہوگا۔چاہے وہ دنیا کے کسی ملک سے کسی زمانے سے تعلق رکھے۔اس میں فرق نہیں ہوتا۔چڑیوں کے رہنے کا طریق اور ہے۔کوؤں کا کبوتروں کا اور سب کی الگ الگ فطرت ہے۔اور جو ان کی فطرت ہے وہ اس کے خلاف نہیں کر سکتے۔صرف فرق اتنا ہو جاتا ہے کہ ایک پالتو جانور جو انسان کے سکھانے پر کچھ بدل جائے۔لیکن جب وہ آزاد ہو گا پھر وہی انداز اختیار کر لے گا۔انسان ایسا جاندار ہے جو اپنے حالات کے مطابق بہتر طور پر زندگی گزارنا چاہتا ہے۔پہلے سے بہتر اور بہتر کیونکہ اس کی فطرت میں ترقی کا مادہ ہے۔