پیاری مخلوق

by Other Authors

Page 43 of 60

پیاری مخلوق — Page 43

۴۳ اور اسی پاکیزہ فطرت کی وجہ سے خدا کو پا لینے کے بعد اس کو کسی کا خوف نہیں ہوتا۔اب وہ تڑپ اور بے قراری جو پہلے تھی دُور ہو جاتی ہے۔اس کی جگہ اپنے محبوب (خدا) کی محبت میں کھو کہ اس راہ میں آنے والی ہر سختی کو خوشی سے سر جاتا ہے یوں وہ روحانی میدان میں ترقیات کی منازل طے کرتا ہوا اپنے رشتہ داروں ، عز نہیں دوستوں اور علاقے کے لوگوں کو بھی اپنے خدا کا پیغام پہنچاتا ہے۔ان کو توجہ دلاتا ہے کہ انسانیت کیا ہے ؟ صرف خالق و مالک کل کائنات کو پہچان کر اس پر ایمان لاتا۔اس سے محبت کرنا۔اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا۔انسانیت ہے۔اس طرح اس دور کے نیک فطرت لوگ نبی کی بات مان کر آہستہ آہستہ اس کے گرد جمع ہوئے ہیں۔یوں انسانوں کا ایک گروپ ، ایک جماعت عام انسانوں سے الگ ہو جاتی ہے۔جو رہی جماعت کہلاتی ہے۔ان انسانوں میں اور عام انسانوں میں ایک نمایاں فرق ہوتا ہے کہ وہ دنیا کی کسی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔کسی کے آگے نہیں جھکتے اور یہی درجہ انسانیت کا وہ مقام ہے جس کو خدا نے پسند کیا۔اسی مقام پر پہنچ کر انسان تمام مخلوقات کا خادم ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔- یوں ایک با اخلاق انسان با خدا انسان بنتا ہے اس طرح سے دنیا میں وہ انسان صحیح معنوں میں دوسری مخلوقات کے علاوہ انسانوں کا ہمدرد بن جاتا ہے۔ان کا ہر طرح خیال رکھنا اپنا فرض جانتا ہے۔ان کے دکھ درد میں شریک ہو کہ مشکل میں مدد کرتا ہے۔ایسے ہی انسان کو خدا تعالیٰ نے اپنا خلیفہ یعنی نائب کہا ہے۔کیونکہ ایک طرف وہ خدا تعالیٰ سے محبت کرتا ہے اور دوسری طرف وہ اس کی مخلوق سے ہمدردی اور پیار کرتا ہے۔ایسا انسان حقیقی معنوں میں انسان