آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 66
ہونے والا مظہر پیدا نہ ہو جائے اس وقت تک مسیح دوبارہ دنیا میں نہیں آسکتا۔اور لوگ اسے نہیں دیکھ سکتے۔میں پہلے یہ ثابت کر چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے نام پر ظاہر ہونے والے مظہر سے مراد مثیل موسیٰ ہے اور محمد رسول اللہ صلی ای میل موسیٰ تھے۔واقعاتی شہادت کی رو سے بھی اور خود مسیح کی شہادت کی رو سے بھی۔پس ” مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے" سے مراد رسول کریم صلی یا یہ تم کی بعثت ہے اور اس پیشگوئی میں خبر دی گئی ہے کہ مسیح روحانی ارتقاء کا آخری نقطہ نہیں بلکہ آخری نقطہ وہ ہے جو خداوند کے نام پر آئے گا۔اگر یہ کہا جائے کہ خداوند کے نام پر آنے والے مظہر کے بعد پھر مسیح نے دوبارہ آنا ہے، اس لئے مسیح ہی روحانیت کا آخری نقطہ قرار پائے گا۔تو اس کا جواب خود حضرت مسیح نے ہی دے دیا ہے۔وہ فرماتے ہیں۔اب سے تم مجھے پھر نہ دیکھو گے جب تک کہ کہو گے مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے۔یعنی مسیح کو دوبارہ دیکھنا اسی کے لئے ممکن ہو گا جو مثیل موسیٰ پر ایمان لا چکا ہو گا۔مثیل موسیٰ کا منکر مسیح کو نہیں دیکھ سکے گا یعنی اس کو پہچان نہیں سکے گا۔جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مسیح اپنی دوبارہ آمد کے وقت مثیل موسیٰ کے اتباع میں سے ہوگا۔پس وہی شخص مسیح پر ایمان لائے گا جو پہلے اس کے متبوع پر ایمان لا چکا ہو گا۔پس آنے والا مسیح کوئی علیحدہ وجود نہیں بلکہ مثیل موسیٰ کا ہی ظل اور اس کا بروز ہے۔اس لئے روحانی منازل کا آخری ارتقائی نقطہ مثیل موسیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں۔( ج ) انجیل میں لکھا ہے کہ یوحنا کے پاس لوگ آئے اور اس سے پوچھا کہ کیا وہ مسیح ہے؟ تو اس نے کہا میں مسیح نہیں ہوں۔تب انہوں نے اس سے پوچھا تو اور کون۔کیا تو الیاس ہے؟ اس نے کہا میں نہیں ہوں۔پھر انہوں نے اس سے پوچھا۔آیا تو وہ 66