آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 65
ہر عجیب معلوم ہوگی۔مگر جیسا کہ حضرت مسیح کہتے ہیں۔باوجود بنو اسرائیل کے ناپسند کرنے کے خدا اس اسمعیلی نبی کو بادشاہت دے گا اور خدا کی بادشاہت بنواسرائیل سے لے لی جائے گی اور اس کی جگہ پر اس دوسری قوم کے سپرد یہ باغ کردیا جائے گا۔یعنی امت محمدیہ کے جو اس کے میوے لاتی رہے گی۔یعنی خدا کی عبادت کو دنیا میں قائم رکھے گی۔ہر شخص جو انصاف کے ساتھ غور کرنے کا عادی ہو وہ معلوم کر سکتا ہے کہ حضرت مسیح کے بعد ظاہر ہونے والے مدعیوں میں سے کوئی بھی سوائے رسول کریم صلی ا یتیم کے اس پیشگوئی کا مستحق نہیں ہو سکتا۔آخر وہ کون تھا جس سے عیسائیت اور یہودیت ٹکرائی اور پاش پاش ہوگئی۔وہ کون تھا جو اس قوم کے ساتھ تعلق رکھتا تھا جسے بنو اسحاق حقارت کی نگاہ سے دیکھتے چلے آئے تھے۔وہ کون تھا کہ جس پر وہ گرا اسے اس نے چور چور کر دیا اور جو اس پر گرا وہ بھی چور چور ہو گیا۔یقینا رسول کریم صلی یا یتیم کے سوا اس پیشگوئی کا مصداق اور کوئی نہیں۔(ب) متی باب ۲۳ آیت ۳۸ ،۳۹ میں لکھا ہے۔دیکھو تمہارا گھر تمہارے لئے ویران چھوڑا جاتا ہے کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے تم مجھے پھر نہ دیکھو گے۔جب تک کہو گے مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے۔ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسیح اپنی قوم سے عنقریب جدا ہونے والے ہیں اور ان کی قوم پھر انہیں نہ دیکھ سکے گی۔جب تک وہ یہ نہ کہے گی کہ مبارک ہے وہ جو خدا وند کے نام پر آتا ہے۔اس عبارت سے ظاہر ہے کہ مسیح کے چلے جانے کے بعد دو الہی مظہر ظاہر ہونے والے ہیں۔ایک الہی ظہور مسیح کے غائب ہو جانے کے بعد ہوگا اور وہ خدا تعالیٰ کا ظہور کہلائے گا۔اس ظہور کے بعد دوبارہ مسیح ظاہر ہوگا۔لیکن جب تک خدا تعالیٰ کے نام پر ظاہر 65