آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 67

نبی ہے اس نے جواب دیا نہیں۔( یوحنا بابا آیت ۲۰-۲۱) پھر آگے چل کر لکھا ہے ”انہوں نے اس سے سوال کیا اور کہا کہ اگر تو نہ مسیح ہے اور نہ الیاس اور نہ وہ نبی۔پس کیوں بپتسمہ دیتا ہے۔( آیت (۲۵) ان آیات سے ظاہر ہے کہ مسیح کے وقت یہود میں تین بشارتیں مشہور تھیں۔اول - الیاس دوبارہ دنیا میں آنے والا ہے۔دوم مسیح پیدا ہونے والا ہے۔سوم۔وہ نبی یعنی موسیٰ کا موعود نبی آنے والا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تین وجود الگ الگ سمجھے جاتے تھے۔الیاس الگ وجود تھا۔صحیح الگ وجود تھا اور وہ نبی الگ وجود تھا۔حضرت مسیح فرما چکے ہیں کہ یوحنا الیاس ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں الیاس جو آنے والا تھا یہی ہے چاہو تو قبول کرو۔“ (متی باب ۱۱ آیت ۱۴) اور لوقا باب ۱ آیت ۱۷ سے بھی پتہ لگتا ہے کہ حضرت یوحنا کی پیدائش سے پہلے ان کے والد حضرت ذکریا کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔وہ اس سے آگے الیاس کی طبیعت اور قوت کے ساتھ چلے گا۔پھر مرقس باب ۹ آیت ۱۳ میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح نے فرمایا ” میں تم سے کہتا ہوں الیاس تو آچکا۔پھر متی باب ۱۷ آیت ۱۲ میں لکھا ہے پر میں تم سے کہتا ہوں کہ الیاس تو آپکا لیکن انہوں نے اس کو نہیں پہچانا۔بلکہ جو چاہا اس کے ساتھ کیا۔“ ان تمام حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ الیاس سے مراد ا نا جیل کی تعلیم کے مطابق یوحنا تھے۔مسیح کے متعلق تو فیصلہ ہی ہے کہ عہد نامہ جدید والا نبی یسوع ابن مریم ہی مسیح کے نام سے خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں ظاہر ہوا۔اب رہ گیا۔” وہ نبی“ نہ یوحنا وہ نبی ہوسکتا ہے نہ مسیح وہ نبی ہوسکتا ہے۔کیونکہ وہ نبی ایک علیحدہ وجود ہے۔پھر یہ بھی ثابت ہے کہ وہ نبی مسیح کے زمانہ تک نہیں آیا تھا۔پس معلوم ہوا کہ وہ موعود جسے بائبل ” وہ 67