آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 29

محمد تھا۔عیسائی مصنف اس پیشگوئی سے گھبرا کر کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس موعود کا نام محمد نہیں بلکہ محمد یم لکھا ہے۔لیکن یہ اعتراض ایک بے معنی اعتراض ہے۔تورات نے تو خدا کو بھی الوہیم لکھا ہے۔عبرانی زبان کا قاعدہ ہے کہ وہ اعزاز اور اکرام کے لئے جمع کا صیغہ استعمال کر دیتی ہے۔اردو زبان میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اعزاز کے موقعہ پر جمع کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔اگر ایک اردو لیکچرار رسول کریم صلی سیتم کی تعریف میں کوئی لیکچر دے گا تو آخر میں کہے گا یہ ہیں ہمارے محمد۔حالانکہ اس کی مراد یہ ہوگی کہ گو ہمارا آقا محمد تو ایک ہی شخص ہے لیکن میں آپ کے اعزاز کے طور پر جمع کا لفظ بولتا ہوں۔(ب) رسول کریم صلی یا ستم کے متعلق ایک اور پیشگوئی غزل الغزلات باب ۴ میں بیان ہوئی ہے۔اس میں حضرت سلیمان اپنی محبوبہ کو بہن بھی کہتے ہیں اور ساتھ ہی زوجہ بھی کہتے ہیں۔چنانچہ غزل الغزلات باب ۴ آیت ۹ میں اپنی محبوبہ کی نسبت کہتے ہیں۔اے میری بوا میری زوجہ “ پھر آیت ۱۰ میں لکھا ہے ”اے میری بہن میری زوجہ “ پھر آیت ۱۲ میں لکھا ہے۔” میری بو ا میری زوجہ “ ان دونوں الفاظ کا جوڑ بتاتا ہے کہ آنے والا محبوب بنو اسمعیل میں سے ہوگا۔جیسے حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ وہ تیرے بھائیوں میں سے ہوگا۔چونکہ حضرت سلیمان اس کو ایک معشوق کی صورت میں پیش کر رہے ہیں۔اس لئے انہوں نے بجائے بھائی کے بہن کا لفظ استعمال کیا ہے اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اس کی تعلیم بنو اسحاق کے نبیوں کی طرح صرف اپنی قوم کے لئے نہیں ہوگی بلکہ دوسری اقوام کے لئے بھی اس کے گھر کا دروازہ کھلا ہوگا جس کی طرف زوجہ کے لفظ سے اشارہ کیا گیا ہے۔اس پیشگوئی میں مونث کے 29