آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 79

آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 30

صیغوں سے دھوکا نہیں کھانا چاہیئے۔کیونکہ ایک شاعرانہ رنگ کا کلام ہے چنانچہ اسی باب کے آخر میں جا کر کہا ہے۔میر امحبوب اپنے باغیچے میں آوے اور اس کے لذیذ میوے کھاوے۔“ یہاں بجائے مؤنث کے مذکر کا صیغہ استعمال کر دیا گیا ہے۔یہ پیشگوئی بھی رسول کریم صلی ان ایام کے سوا کسی اور پر پوری نہیں ہوتی۔حضرت مسیح بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے نہیں تھے۔نہ ان کی تعلیم غیر قوموں کے لئے تھی۔جیسا کہ پہلے ثابت کیا جا چکا ہے۔(ج) اسی طرح غزل الغزلات میں لکھا ہے۔” میں سیاہ فام پر جمیلہ ہوں۔اسے یروشلم کی بیٹیو! قیدار کے خیموں کی مانند سلیمان کے پردوں کی مانند، مجھے مت تا کو کہ میں سیاہ فام ہوں۔“ (بابا آیت ۶،۵) اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان نے ایک ایسے نبی کی خبر دی ہے جو جنوب کا رہنے والا ہوگا اور بنو الحق کی نسبت جو شمال کے رہنے والے تھے اس کا رنگ کم اجلا ہوگا۔یا یوں کہو کہ اس کی قوم کا رنگ کم اجلا ہوگا۔چنانچہ شامیوں اور فلسطینیوں کے رنگ بوجہ شمال میں رہنے کے عربوں کی نسبت زیادہ سفید ہوتے ہیں اور رسول کریم صلی ہی ہم عرب میں پیدا ہوئے تھے۔(و) اسی باب میں پھر آنے والے موعود کی یہ علامت بتائی گئی ہے کہ:۔” میری ماں کے بیٹے ناخوش تھے۔انہوں نے مجھ سے تاکستانیوں کی 66 نگہبانی کرائی۔پر میں نے اپنے تاکستانوں کی جو خاص میرا ہے نگہبانی نہیں کی۔“ (بابا آیت ۶) 30