مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 833 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 833

833 کہ آنحضرت صلعم فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا آپ نے پوچھا یہ کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ دجال ہے۔باقی رہی حدیث لَيُهِلَّـنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجْ الرَّوْحَاءِ حَاجًا اَوْ مُعْتَمِرًا اَوْ لَيَثْنِيَنَّهُما۔(صحيح مسلم كتاب الحج باب اهلال النبي و هديه ) تو یا درکھنا چاہیے کہ (۱) حدیث کے الفاظ میں اَوُ۔اَوُ۔او کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ آنحضرت کے اصل الفاظ محفوظ نہیں ہیں۔یہ روایت سند کے لحاظ سے بھی ضعیف ہے کیونکہ اس کا ایک راوی محمد بن مسلم بن شہاب الزہری ہے۔اس کے متعلق لکھا ہے قَالَ أَبُو الزَّنادِ كُنَّا نَكْتُبُ الْحَلَالَ وَالْحَرَامَ وَكَانَ ابنُ شُهَابٍ يَكْتُبُ كُلَّمَا سَمِعَ۔“ (تهذيب التهذيب باب المیم زیرلفظ محمد ) کہ ابولز نا د نے کہا ہے کہ ہم تو حلال اور حرام کی بابت حدیث جمع کرتے تھے۔مگر ابن شہاب جو سنتا تھا لکھ لیتا تھا۔پس وہ حجت نہیں ہے اور ابو داؤد کہتے ہیں کہ "قَدْ رُوِيَ مِأَتَيْنِ عَنْ غَيْرِ الثَّقَاتِ کہ زہری کی روایت کردہ روایتوں میں دوصد کے قریب روایتیں غیر ثقہ راویوں سے مروی ہیں۔(تهذيب التهذيـب بـاب المیم زیر لفظ محمد) نیز اس کے متعلق علامہ ذہبی کی رائے یہ ہے کہ كَانَ يُدَرِّسُ فِي النَّادِرِ۔(میزان الاعتدال زیر لفظ محمد بن مسلم) اسی طرح حدیث کا دوسرا راوی سعید بن منصور بن شعبۃ الخراسانی ابو عثمان ہے اس کے متعلق لکھا ہے کہ إِذَا رَأَى فِي كِتَابِهِ خَطَاءً لَمْ يَرْجِعُ عَنْهُ۔(تهذيب التهذيب باب الحاء زير لفظ حرملة و ميزان الاعتدال زیر لفظ سعيد بن منصور ( یعنی یہ راوی اتنا ضدی تھا کہ اگر اپنی تحریر کردہ حدیث میں کوئی غلطی بھی دیکھتا تھا تو اپنی غلطی سے رجوع نہ کرتا تھا۔اسی طرح دوسری سند میں سعد بن عبدالرحمن الابھی بھی ہے جس نے یہ روایت زہری سے لی ہے۔اس کے متعلق لکھا ہے کہ ”وَهُوَ دُونَهُمْ فِي الزُّهْرِيِّ فِي حَدِيثِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ بَعْضُ الْاِضْطِرَابِ۔(تهذيب التهذيب باب السين زير لفظ معد) کہ لیٹ کی جو روایت زہری سے ہو وہ مشکوک ہوتی ہے۔پس روایت متنازعہ بھی مشکوک ہے۔تیسرے طریقہ میں حرملہ بن یحی بن عبداللہ بھی ضعیف ہے۔ابو حاتم اس کے متعلق کہتے ہیں کہ لا يُحتج به کہ اس کا قول حجت نہیں نیز یہ روایت اس راوی نے ابن وہب سے لی ہے۔حالانکہ یہ ثابت ہے کہ ان دونوں کے درمیان دشمنی تھی۔پس یہ روایت حجت نہیں۔(تهذيب التهذيب بـاب الحاء زير لفظ حُرملة) مختصر یہ کہ یہ روایت ضعیف ہے اور اس میں زہری کی تدلیس اور لیٹ کا اضطراب اور حرملہ کی