مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 832
832 بھلا ایک ماں کی خدمت تو حج سے بہتر ہے پھر اسلام ( جس پر ہزاروں مائیں قربان کی جاسکتی ہیں ) کی خدمت کرنا کیوں حج سے بہتر نہیں۔۵۔فَجَانَتْ اِمْرَأَةٌ مِنْ خَتُعَم۔۔۔فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ أَدْرَكْتُ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَثْبُتُ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَفَاحُجُ عَنْهُ قَالَ نَعَمُ۔(بخاری کتاب الحج باب وجوب الحج وفضله) خثعم قبیلہ کی ایک عورت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا یا رسول اللہ میرا باپ بہت بوڑھا ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا فریضہ حج فرض ہو گیا ہے۔وہ بوجہ بڑھاپا اونٹ پر بیٹھ نہیں سکتا۔کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں۔آنحضرت صلعم نے فرمایا ہاں۔یہی حدیث مسلم کتاب الحج باب الحج عن العاجز۔۔۔۔مع شرح نووی میں بھی ہے۔عَنْ عِكْرَمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ أَفَاحُجُ عَنْهُ قَالَ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ اَكُنتَ تَقْضِيْهِ قَالَ نَعَمُ قَالَ فَدَيْنُ اللهِ اَحَقُّ۔( نسائی کتاب مناسک الحج باب تشبيه قضاء الحج بقضاء الدين) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ حضرت عکرمہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے آنحضرت صلعم سے عرض کیا۔یا رسول اللہ میرا باپ فوت ہو گیا اور اس نے حج نہیں کیا۔کیا میں اس کی طرف سے حج کرلوں؟ فرمایا کیا اگر تیرے باپ پر کوئی قرضہ ہوتا تو تو اس کو ادا کرتا ؟ اس نے عرض کیا ہاں۔فرمایا پھر اللہ کا قرضہ زیادہ قابل ادائیگی ہے یعنی اس کو ادا کر دو۔حضرت مسیح موعود کی طرف سے بھی حج بدل کرایا گیا اور حضرت حافظ احمد اللہ صاحب مرحوم نے فریضہ حج ادا کیا۔فَجٍّ الرَّوْحَاءِ آنحضرت صلعم نے فرمایا کہ مسیح موعود حج کرے گا اور فَج الروحاء سے عمرہ کرے گا۔آنحضرت نے مسیح موعود کو حج کرتے دیکھا ہے :۔الجواب۔۔آنحضرت صلعم نے دجال کو بھی حج کرتے دیکھا ہے۔کیا د قبال بھی حاجی ہوگا ؟ "رَجُلٌ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ۔“ (بخاری کتاب بدء الخلق كتاب الانبياء باب واذكر في الكتاب مريم )