مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 834 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 834

834 عدم ثقاہت کا دخل ہے۔لہذا حجت نہیں۔۲۔فَ الرَّوحاء کوئی میقات نہیں۔چنانچہ (الف) فَجَّ بمعنی طریق است و ہر دور امکانیست ما بین مدینه طیبه رواد می صغرا در راه مکه مکرمه (حج الکرامته صفحه ۱۳۲۹ از نواب صدیق حسن خان صاحب بزبان فارسی ) پس ثابت ہوا کہ یہ میقات نہیں۔ب لَيْسَ بِمِيْقَاتٍ ( المال الا كمال شرح مسلم جلد ۳ ص ۳۹۸) کہ نج روحاء کوئی میقات نہیں۔ج۔لغت کی کتاب قاموس میں ہے الرَّوحَاءُ بَيْنَ الْحَرَمَيْنِ عَلَى ثَلَاثِينَ وَ أَرْبَعِينَ مِيَّلًا مِنَ الْمَدِينَةِ ( قاموس فصل الراء باب الحاء ) كه روحاءحرمین کے درمیان مدینہ سے میں چالیس میل کے فاصلہ پر ہے۔پس یہ نہ میقات ہے اور نہ میقات کے بالمقابل۔مسلم کی ایک دوسری حدیث اس حدیث کی شرح کرتی ہے۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَمَرَرْنَا بِوَادٍ فَقَالَ أَيُّ وَادٍ هَذَا؟ فَقَالُوا وَادِى الْأَزْرَقِ فَقَالَ كَانِى اَنْظُرُ إِلى مُوسَى فَذَكَرَ مِنْ لَوْنِهِ وَ شَعُرِهِ۔۔۔وَاضِعًا أَصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ لَهُ جُوَارٌ إِلَى اللهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي۔قَالَ ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةً فَقَالَ أَيُّ ثَنِيَّةٌ هَذِهِ؟ فَقَالُوا هَرْشَي۔۔۔فَقَالَ كَانِّی اَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ۔۔۔۔۔مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَيِّيًا۔“ (مسلم کتاب الايمان باب الاسراء برسول الله الى السموت و فرض الصلوة) حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ ہم ایک دن مکہ اور مدینہ کے درمیان گئے۔پس ہم ایک وادی سے گزرے۔آنحضرت صلعم نے پوچھا یہ کونسی وادی ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ وادی ارزق۔آنحضرت صلعم نے فرمایا گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں پھر آنحضرت صلعم نے حضرت موسیٰ کے رنگ اور بالوں کا کچھ ذکر کیا انہوں نے اپنی انگلیاں دونوں کانوں میں ڈالی ہوئی ہیں اور وہ اس وادی سے گزرتے ہوئے لبیک کہہ رہے ہیں۔راوی کہتا ہے کہ پھر ہم آگے چلے یہاں تک کہ ہم ایک ٹیلے پر پہنچے۔آنحضرت نے پوچھا یہ کونسا ئیلا ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ یہ ہرشی ٹیلہ ہے آنحضرت صلحم نے فرمایا کہ گویا میں یونس کو ایک سرخ اونٹنی پر سوار ایک صوف کا جبہ پہنے ہوئے اس وادی سے گزرتے ہوئے اور لبیک کہتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔“