مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 831
831 فرشتے نے حضرت عیسی کا نام اسمُهُ المَسَحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ “بتایا ہے جو مرکب ہے۔اسمعیل بھی مرکب ہے اِسْمَعُ اور ایل جس کا ترجمہ ہے ”سن لی اللہ نے میری! یعنی اللہ نے میری دعا سن لی۔۱۴۔حج کرنا الجواب:۔۱۔حج کے لئے بعض شرائط ہیں (۱) راستہ میں امن ہو۔مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سبيلا (ال عمران (۹۸) (۲) صحت ہو۔(۳) بوڑھے والدین نہ ہوں۔(دیکھو تفسیر کبیر امام رازی زیر آیت آل عمران:۹۸ نیز دیکھو کشف المحجوب مصنفہ داتا گنج بخش مترجم اردو صفحه ۳۷۷- ما لا بد منه اردو صفحه ۲۸ تاجران کتب برکت علی اینڈ سنز لاہور ) جن کی خدمت اس پر فرض ہو یا چھوٹی اولاد نہ ہو جس کی تربیت اس پر فرض ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں تینوں شرائط نہ پائی جاتی تھیں۔لاہور گئے ، رستہ میں قتل کرنے کے لئے لوگ بیٹھ گئے۔امرتسر اور سیالکوٹ میں گئے مخالفین نے اینٹیں ماریں۔دہلی گئے وہاں آپ پر حملہ کیا گیا اور مکہ میں تو حضرت پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا تھا۔پس آپ پر حج کے لیے جانا فرض نہ تھا کیونکہ حج صرف اس حالت میں ہو سکتا ہے کہ رستہ میں امن ہو۔خود آنحضرت صلعم نے حدیبیہ کے سال حج نہیں کیا۔محض اس وجہ سے کہ کا فرمانع ہوئے۔بعد ا ولا تھی۔۲۔آپ کو دوران سر اور ذیا بیطس کی دو بیماریاں تھیں۔۳۔آپ کے والد بزرگوار آپ کے سر پر چالیس سال کی عمر تک زندہ رہے اور اس کے ۴۔تذکرۃ الا لیاء میں ہے۔ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے ارادہ حج کا کیا۔جب میں بغداد پہنچا تو حضرت ابو حازم مکی کے پاس گیا۔میں نے ان کو سوتے پایا۔میں نے تھوڑی دیر صبر کیا۔جب آپ بیدار ہوئے تو فرمانے لگے کہ میں نے اس وقت حضرت پیغمبر علیہ السلام کو خواب میں دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو تیرے لئے پیغام دیا اور فرمایا کہ کہہ دو اپنی ماں کے حقوق کی نگہداشت کرے کہ اس کے لئے وہی بہتر ہے حج کرنے سے۔اب تو لوٹ جا۔اور اس کے دل کی رضا طلب کر۔میں واپس پھرا اور مکہ معظمہ نہ گیا۔“ ( تذكرة الاولياء ذکر ابو حازم مکی "باب نمبرے صفحہ ۶۸۔انوار الا ز کیاء اردو ترجمہ ظہیر الاصفیاء صفحہ ۵۷)