مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 822 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 822

822 مقصود ہوتا ہے۔جیسا کہ حضرت داؤ داور سلیمان اور بنی اسرائیل کے تمام انبیاء“ ۵ تفسیر حسینی میں لکھا ہے:۔ایک کتاب جس کا نام زبور تھا اور اس میں حق تعالیٰ کی ثنا تھی فقط۔اوامر نوا ہی کچھ نہ تھے۔بلکہ حضرت داؤد کی شریعت وہی تو ریت کی شریعت تھی۔“ ( تفسیر قادری حسینی جلد مترجم اردو صفحه ۲۰۶ زیر آیت وَآتَيْنَا دَاوُدَ زَبُورًا - النساء : ۱۶۴) حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت جو لِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حَرَّمَ عَلَيْكُمْ (ال عمران: ۵۱) آیا ہے تو اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ حضرت عیسی کوئی نئی شریعت لائے تھے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہود کے علماء نے از خود جن حلال چیزوں کو حرام قرار دے رکھا تھا۔حضرت عیسی نے ان کے بارہ میں تو راۃ کے اصل حکم کو بحال فرما کر تو ریت ہی کو قائم کیا۔چنانچہ لکھا ہے:۔إِنَّ الْأَحْبَارَ كَانُوا قَدْ وَضَعُوا مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ شَرَابِعَ بَاطِلَةً وَ نَسَبُوُهَا إِلَى مُوسَى فَجَاءَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَ رَفَعَهَا وَابْطَلَهَا وَأَعَادَ الْأَمْرَ إِلَى مَا كَانَ فِي زَمَنِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ۔( تفسیر کبیر زیر آیت لأُحِلَّ لَكُمْ - ال عمران (۱۶۴) یعنی یہود کے علماء نے بعض احکام باطل آپ ہی اپنے پاس سے وضع کر کے ان کو موسی" کی طرف منسوب کر رکھا تھا۔پس عیسی علیہ السلام مبعوث ہوئے۔انہوں نے ان غلط احکام کو قائم نہ رہنے دیا، بلکہ ان کو باطل قرار دے کر سابق اصل حکم کو برقرار رکھا جو موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تھا۔“ ے۔حضرت محی الدین ابن عربی تحریر فرماتے ہیں:۔نبی کبھی صاحب شریعت ہوتا ہے جیسے رسل علیہم السلام ہیں اور کبھی صاحب شریعت جدید نہیں ہوتا ہے بلکہ پہلی ہی شریعت میں اس کے حقائق کو ان کی استعداد کے موافق تعلیم کرتا ہے۔جیسے بنی اسرائیل کے انبیاء ہیں۔“ (فصوص الحکم مقدمہ فصل نمبر ۱۲ نبوت ورسالت کے بیان میں مترجم اردو صفحہ۴ ۷ ) عقلی دلیل :۔یہ دعویٰ کہ ہر نبی کے لئے نئی شریعت کا لانا ضروری ہے اور یہ کہ جب تک پہلے نبی کے احکام کو منسوخ کر کے نیا حکم نہ لائے کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا۔اس قدر خلاف عقل ہے کہ کوئی شخص جسے تاریخ انبیاء کا علم ہوا اپنی زبان سے یہ دعوی نکال نہیں سکتا کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں