مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 821
821 کام کرتا اور اس پر عمل کرنے کی لوگوں کو دعوت دیتا تھا۔اگر چہ وہ کتاب خود اس پر نازل نہ ہوئی ہو۔ب۔امام رازی آيت أو لَكَ الَّذِينَ أَتَيْهُمُ الكِتب کی تفسیر میں لکھتے ہیں :۔وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ مِنْهُ أَنْ يُؤْتِيَهُ اللَّهُ تَعَالَى فَهُمَا تَامَّا لِمَا فِي الْكِتَابِ وَ عِلْمًا مُحِيطًا بِحَقَائِقِهِ وَاَسْرَارِهِ وَهَذَا هُوَ الْأَوْلى لَانَّ الْأَنْبِيَاءَ الثَّمَانِيَةَ عَشْرَ الْمَذْكُورِينَ مَا أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ كِتَابًا۔(تفسير كبير زير آيت أُولَيْكَ الَّذِينَ أَتَيْنَهُمُ الكتب الى الانعام : ٩٠) یعنی اس ایتاء کتاب کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر نبی کو کتاب کے حقائق و معارف اور اسرار و رموز کا کامل علم عطا فرماتا ہے اور یہی معنی زیادہ صحیح ہیں کیونکہ قرآن مجید میں جن اٹھارہ انبیا ء کا ذکر ہے ان میں سے ہر ایک پر الگ الگ کتاب نازل نہیں کی ہوئی تھی۔۲ تفسیر بیضاوی میں ہے۔وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَبَ يُرِيدُ بِهِ الْجِنْسَ وَلَا يُرِيدُ بِهِ أَنَّهُ أُنْزِلَ مَعَ كُلَّ وَاحِدٍ كِتَابًا يَخُصُّهُ فَإِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ كِتَابٌ يَخُصُّهُمْ وَ إِنَّمَا كَانُوا يَأْخُذُونَ بِكُتُبِ مَنْ قَبْلَهُمْ “ ( تفسیر بیضاوی زیر آیت وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَبَ - البقرة :۲۱۳) اس آیت میں لفظ کتاب بطور جنس استعمال ہوا ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر ایک نبی کو الگ الگ خاص کتاب دی گئی۔کیونکہ انبیاء میں سے اکثریت ان کی ہے جن کے پاس کوئی ان کی مخصوص کتاب نہ تھی۔بلکہ وہ اپنے سے پہلے نبی کی کتاب سے ہی احکام اخذ کرتے تھے۔۳۔حضرت شیخ فریدالدین عطار رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:۔حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تابع تھے۔“ (تذکرۃ الاولیا ء باب چھٹا ذکر حضرت حسن بصری اردو ترجمہ ) ۴۔حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی تحریر فرماتے ہیں :۔اوْ يَكُونُ نَظْمَ مَا قَضَى لِقَوْمٍ مِنْ اِسْتِمُرَارِ دَوْلَةٍ أَوْ دِيْنٍ يَقْتَضِئُ بَعْثَ مُجَدَّدٍ كَدَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ وَ جَمُعِ مِنْ أَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ۔“ (حجۃ اللہ البالغہ حصہ اوّل صفحہ ۱۵۹ مترجم اردو مطبع حمایت اسلام پریس لاہور ) یعنی انبیاء کی دوسری قسم وہ ہے کہ جو ایسے وقت میں مبعوث کئے جاتے ہیں جبکہ پہلے نبی کے ذریعہ سے قائم شدہ نظام کو جاری رکھنے کے لئے تجدید کی ضرورت کے لئے ایک مسجد دکو مبعوث کرنا