مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 820
820 بعض انبیاء کو کتاب ملی تھی۔۳۔امام رازی حضرت الحق ، ایوب ، یعقوب، یونس، ہارون ، داؤ د اور سلیمان علیہم السلام کے نام لکھ کر تحریر فرماتے ہیں: "لَأَنَّهُمُ مَا جَاءُ وُا بِكِتَابِ نَاسِخِ“ ( تفسیر کبير زير آيت وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ وَلَا نَبِي - الحج ۵۳) ۴۔علامہ ابوالسعو دتحریر فرماتے ہیں:۔وَالنَّبِيُّ۔۔۔۔مَنْ بَعْتُهُ لِتَقْرِيرِ شَرِيعَةٍ سَابِقَةٍ كَانْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ الَّذِينَ كَانُوا بَيْنَ مُوسَى وَعِيسَى عَلَيْهِ الصَّلوةُ وَالسَّلَامُ۔( تفسیر ابی السعو د بر حاشیه تفسیر کبیر زیر آیت وَمَا أرسلنا من قبلكَ مِنْ رَّسُوْنِ وَلَا نَبِيَّ الحج :۵۳) یعنی نبی وہ ہوتا ہے جس کی بعثت کی غرض محض سابق شریعت کو قائم کرنا ہوتی ہے جس طرح کہ وہ تمام انبیاء تھے جو حضرت موسیٰ اور عیسی کے درمیان مبعوث ہوئے۔۵- انَّ الرَّسُولَ لَا يَجِبُ اَنْ يَكُونَ صَاحِبَ شَرِيعَةٍ جَدِيدَةٍ (مُسْتَقِلَّةٍ) فَإِنَّ أَوْلَادَ إِبْرَاهِيمَ كَانُوا عَلَى شَرِيعَتِه۔(روح المعانی جلد ۵ صفحه ۱۸۶) یعنی رسول کے لئے ضروری نہیں کہ وہ نئی شریعت لانے والا ہو کیونکہ ابراہیم کی اولاد میں جو نبی آئے وہ سب ابراہیم کی شریعت پر تھے۔غیر احمدی - قرآن مجید میں ہے او ليك الَّذِينَ اتَنهُمُ الكِتب (الانعام: ۹۰) پس ہر نبی کا صاحب کتاب ہونا ضروری ہے۔جواب: اس آیت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہر نبی کے لئے فرد فردا مستقل جدید کتاب لے کر نازل ہونا ضروری ہے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر نبی کسی نہ کسی منزل من اللہ کتاب کی طرف لوگوں کو دعوت دے کر اس کتاب کے ذریعہ لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے خواہ وہ کتاب اللہ تعالیٰ نے خود اس پر نازل فرمائی ہو یا اس سے کسی پہلے نبی پر نازل ہوئی ہو۔چنانچہ ملاحظہ ہو حوالجات ذیل:۔ا۔حضرت امام رازی تحریر فرماتے ہیں:۔الف " أَنَّ جَمِيعَ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ أَوتُوا الْكِتَابَ بِمَعْنَى كَوْنِهِ مُهْتَدِيًا بِهِ دَاعِيًا إِلَى الْعَمَلِ بِهِ وَ إِنْ لَمْ يُنْزَلُ عَلَيْهِ۔زیرآیت إِذْ اَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِينَ (ال عمران: ۸۲) کہ ہر نبی کو ان معنوں میں کتاب دی گئی ہے کسی نہ کسی کتاب کے ذریعہ سے رشد و ہدایت کا