مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 779
779 روز اپنے غلاموں میں بیٹھے تھے اور ان سے کہتے تھے کہ آؤ ہم بیعت کریں یعنی عہد کریں کہ قیامت کے دن جو شخص ہم میں سے نجات پائے وہ سب کی شفاعت کرے اور وں نے کہا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ! آپ کو ہماری شفاعت کی کیا پروا ہے، کیونکہ آپ کے جد مبارک سب خلقت کے شفیع ہیں۔امام صاحب (امام جعفر صادق) نے کہا کہ میں اپنے فعلوں کے ساتھ شرم رکھتا ہوں کہ داد بزرگوار کو کس طرح منہ دکھاؤنگا اور یہ سب اپنے نفس کی عیب گیری ہے۔اور یہ صفت کامل صفتوں سے ہے اور سب باریاب جناب الہی کے انبیاء اور اولیاء اور رسول اسی صفت پر ہوئے ہیں“۔(کشف المحجوب مترجم اردو باب چھٹا مطبوعہ مطبع عزیزی ۱۳۳۲ھ صفحہ ۹۱) جواب نمبر ۸:۔خدا کے نیک بندوں سے انکسار تذلل کا اظہار صرف اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتے وقت ہی نہیں بلکہ مناسب موقع پر دوسرے انسانوں کے سامنے بھی ہوتا ہے۔چنانچہ خلیفہ المسلمین حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے متعلق لکھا ہے:۔إِنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ اَ اَنْتَ خَلِيْفَةُ رَسُولِ اللَّهِ ! قَالَ لَا أَنَا الْخَالِفَةُ بَعْدَهُ۔(ابوداؤ د کتاب المہدی آٹھویں حدیث۔نہا یہ مطبوعہ مصر صفحه ۵۶ ومنتخب کنز العمال بر حاشیه مسند احمد بن مقبل جلد ۴ صفحه ۳۶۱) یعنی ایک اعرابی نے حضرت ابو بکڑ سے پوچھا کہ کیا آپ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔تو آپ نے فرمایا نہیں بلکہ میں تو ”خالفہ ہوں اور ”خالفہ “ کے معنی مجمع البحار الانوار جلدا صفحه ۳۷۰ وتاج العروس فصل الخاء باب الفاء و لسان العرب فصل الخاء المعجمة ميں الَّذِي لَا خَيْرَ فِيهِ لکھے ہیں یعنی وہ جس میں کوئی بھلائی نہ ہو۔اب احراریوں کی طرح شیعہ بھی حضرت ابوبکر کے اس منکسرا نہ فقرہ کو اڑائے پھرتے ہیں۔(دیکھو لکلمۃ الحق مباحثہ جلالپور جٹاں از حافظ روشن علی صاحب صفحه ۲۰) جواب نمبر ۹۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دوسرے مقام پر تحریر فرماتے ہیں:۔۔إِنَّ الْمُهَيْمِنَ لَا يُحِبُّ تَكَبُّرًا مِنْ خَلْقِهِ الْضُّعَفَاءِ دُودَ فِنَاءِ (انجام آن صفحه ۱۷) ( انجام آنقم روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۲۷۱) کہ خدا تعالیٰ اپنی مخلوق سے جو ضعیف اور کیڑے ہیں۔تکبر پسند نہیں کرتا۔اس شعر میں حضور علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں تمام مخلوق کو کیڑے اور کرم خاکی