مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 780 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 780

780 قرار دیا ہے اور تکبر سے اظہار نفرت فرمایا ہے۔ب۔پھر فرماتے ہیں۔وَمَا نَحْنُ إِلَّا كَالْفَتِيْل مُذَلَّةٌ بِأَعْيُنِهِمُ بَلْ مِنْهُ أَدْنَى وَاَحْقَرُ (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۶۷) ترجمہ:۔کہ ہم اپنے مخالفوں کی نظر میں ایک ریشہ خرما کی طرح ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ حقیر اور ذلیل۔ج:۔پھر تحریر فرماتے ہیں :۔اس آیت میں ان نادان موحدوں کا رڈ ہے جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسرے انبیاء پر فضیلت کلی ثابت نہیں اور ضعیف حدیثوں کو پیش کر کے کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مجھ کو یونس بن مٹی سے بھی زیادہ فضیلت دی جائے۔یہ نادان نہیں سمجھتے وہ بطور انکسار اور تذلیل ہے جو ہمیشہ ہمارے سید صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی ہر ایک بات کا ایک موقع اور محل ہوتا ہے اگر کوئی صالح اپنے خط میں احقر عباداللہ لکھے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ یہ شخص در حقیقت تمام دنیا یہاں تک کہ بت پرستوں اور تمام فاسقوں سے بدتر ہے اور خود اقرار کرتا ہے کہ وہ احقر عباداللہ ہے کس قدرنا دانی اور شرارت نفس ہے۔“ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۶۳) ۴۸۔عدالت میں معاہدہ حضرت مرزا صاحب نے مجسٹریٹ سے ڈر کر عدالت میں لکھ دیا کہ میں کوئی ایسی پیشگوئی جو کسی کی موت کے متعلق ہو بغیر فریق ثانی کی اجازت کے شائع نہ کروں گا۔جواب نمبر۔حضرت اقدس علیہ السلام کا طریق ابتداء ہی سے یہ تھا کہ حضور کسی کی موت کی پیشگوئی بغیر اس فریق کی اپنی خواہش اور اجازت کے شائع نہ فرمایا کرتے تھے۔یہ معاہدہ بعدالت ایم ڈوئی ڈپٹی کمشنر گورداسپور میں ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء کو ہوا ( مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحه ۱۳۴) جس کا تم حوالہ دیتے ہو مگر ۱۸۸۶ء میں یعنی اس معاہدہ سے ۱۳ سال قبل حضرت اقدس علیہ السلام نے لیکھرام پیشاوری واندر من مراد آبادی کے متعلق جب اپنی مشہور انذاری پیشگوئی شائع فرمانے کا ارادہ فرمایا۔تو ان سے کہا کہ اگر تم چا ہو تو میں تمہارے قضا و قدر کے متعلق جو علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے اس کو شائع کر دوں۔