مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 764 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 764

764 ہوں کہ آخر الذکر نتیجہ ہی صحیح ہے۔کیونکہ ممانعت جہاد کے فتوی کی بناء پر مرزا صاحب علیہ السلام کو کافر کہتے کہتے تمام عالم اسلامی کو خارج از اسلام تسلیم کرنا پڑتا ہے۔مسئلہ جہاد کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں یہ امر بھی واضح کر دینا ضروری ہے کہ مسئلہ جہاد کے بارے میں اس وقت احمدی جماعت اور غیر احمدی حضرات کے درمیان قطعاً کوئی اختلاف نہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے کہ و عیسی مسیح کر دے گا جنگوں کا التواء (تحفہ گولٹر و بی روحانی خزائن جلدی اصفحہ ۲۷) اس میں جہاد بالسیف ایک وقت تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور ایک دوسرے مقام پر تحریر فرمایا :۔اس زمانہ میں جہاد روحانی صورت سے رنگ پکڑ گیا ہے اور اس زمانہ کا جہاد یہی ہے کہ اعلائے کلمہ اسلام میں کوشش کریں۔مخالفوں کے الزامات کا جواب دیں۔دین متین اسلام کی خوبیاں دنیا میں پھیلائیں یہی جہاد ہے جب تک کہ خدا تعالی کوئی دوسری صورت دنیا میں ظاہر کرئے“۔( مکتوب بنام میر ناصر نواب صاحب مندرجہ رساله درود شریف صفحه ۶۶ مؤلفہ حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب ہلال پوری ) حضرت امام جماعت احمدیہ کا اعلان دربارہ ”جہاد“ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ اس امر کا علم کیونکر ہوگا کہ اب ”التواء کا زمانہ ختم ہو چکا ہے اور یہ کہ اب جہاد کی دوسری صورت ظاہر ہو چکی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد سلسلہ خلافت موجود ہے اور یہ کام اپ خلیفہ وقت کا ہے کہ وہ اس التواء کے زمانہ کے ختم ہونے کا اعلان کرے۔چنانچہ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مجلس شوریٰ جماعت احمد یہ منعقدہ ستمبر ۱۹۴۷ء بمقام رتن باغ لاہور میں تمام نمائندگان جماعتہائے احمدیہ کے سامنے اعلان فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس تلوار کے جہاد کے التواء کا اعلان حسب ارشادِ نبوى يَضَعُ الْحَرْبَ ( بخاری ) فرمایا تھا۔اب اس "التواء کا زمانہ ختم ہورہا ہے اور جماعت احمدیہ کے افراد کو چاہئے کہ وہ تلوار کے جہاد کے لئے تیاری کریں۔تا کہ جب وقتِ جہاد آئے تو سب اس میں