مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 765
765 شمولیت کے قابل ہوں۔پھر اس کے بعد جب محاذ کشمیر پر عملاً جنگ کرنے کا وقت آیا تو مولوی ابوالاعلیٰ مودودی اور دوسرے علماء کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا۔کہ آیا کشمیر کی جنگ آزادی شرعاً جہاد ہے یا نہیں۔مولوی ابوالاعلیٰ مودودی نے کہا کہ یہ جہاد نہیں۔اسی طرح احراری لیڈ رسید عنایت اللہ شاہ بخاری خطیب مسجد کالری گیٹ گجرات نے بھی کہا کہ جو لوگ محاذ کشمیر پر جا رہے ہیں حرام موت“ مرنے جارہے ہیں لیکن جماعت احمدیہ نے بجائے اس اصطلاحی بحث میں پڑ کر وقت ضائع کرنے کے فی الفور میدان عمل میں آکر اس محاذ پر فرقان فورس کی شکل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور یہ ثابت کر دیا کہ جب بھی ملک وملت کے لئے تلوار کے ساتھ جنگ کرنے کا وقت آئے جماعت احمد یہ احراریوں کی طرح زبانی جمع خرچ نہیں کرتی بلکہ اس میں عملاً حصہ لیتی ہے اور در حقیقت یہی وہ عملی فضیلت ہے جو جماعت احمدیہ کو اپنے مخالفین پر حاصل ہے۔یہ بھی یادر ہے کہ جماعت احمدیہ کے افراد نے ”فرقان فورس کی تنظیم کے ماتحت محاذ جنگ میں محض رضا کارانہ طور پر حصہ لیا۔کسی قسم کی تنخواہ حکومت سے وصول نہیں کی بلکہ ہزاروں احمدی نوجوان اپنے اپنے کاروبار چھوڑ چھاڑ کر رضا کارانہ طور پر محاذ جنگ پر گئے۔حکومت پاکستان اور پاکستان کی بہترین خدمات سرانجام دیتے رہے۔ان کی ان شاندار خدمات کے لئے پاکستانی افواج کے کمانڈر انچیف اور دیگر ذمہ وارحکام پاکستان نے جماعت احمدیہ کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ۔حضرت امام جماعت احمد یہ ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے صرف مجلس شوری ہی کے موقع پر اس التواء کے بارہ میں اعلان نہیں فرمایا بلکہ ما بعد اپنے کلام میں بھی اس کا ذکر فرمایا جو الفضل میں شائع ہو چکا ہے۔حضور فرماتے ہیں:۔ہو چکا ہے ختم اب چگر تری تقدیر کا سونے والے اٹھ کہ وقت آیا ہے اب تدبیر کا کاغذی جامے کو پھینک اور آہنی زرہیں پہن وقت اب جاتا رہا ہے شوخی تحریر کا مدتوں کھیلا گیا ہے لعل و گوہر سے عدو اب دکھا دے تو ذرا جوہر اسے شمشیر کا پیٹ کے دھندوں کو چھوڑ اور قوم کے فکروں میں پڑ ہاتھ میں شمشیر لے عاشق نہ بن کفگیر کا ہو چکی مشق ستم اپنوں کے سینوں پر بہت اب ہو دشمن کی طرف رخ خنجر و شمشیر کا اخبار الفضل جلد ۲لا ہور پاکستان ۱۴؍ جولائی ۱۹۴۸ء)