مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 762
762 کئے جاچکے ہیں۔ان کی تائید میں اہلحدیث کے ایک بہت بڑے رہنما نواب نور الحسن خانصاحب آف بھوپال کا فتویٰ جو انہوں نے انگریزی حکومت کے خلاف جہاد کے بارے میں اپنی مشہور و معروف کتاب اقتراب الساعة ۱۸۸۳ء میں تحریر کیا۔درج کیا جاتا ہے:۔اس تیرہ سو برس میں کوئی ایسا فتنہ نہیں ہوا جس کی خبر حدیث میں اول سے موجود نہ ہو۔جو لوگ اس علم سے ناواقف ہیں۔وہی فتویٰ جہاد کا حق میں ہر فتنہ کے دیتے ہیں۔ورنہ دنیا میں مدت سے صورت جہاد کی پائی نہیں جاتی۔ہم یہ نہیں کہتے کہ حکم جہاد کا اسلام میں نہیں ہے یا تھا مگر اب منسوخ ہو گیا یہ کہتے ہیں کہ اس زمانے کی لڑائی بھڑائی خواہ مسلمان و کافر میں ہو۔یا با ہم مسلمانوں کے مشکل ہے کہ جہاد شرعی ٹھہر سکے۔( اقتراب الساعۃ صفحہ سے مطبع مفید عام الکامنتۃ فی آگرہ ۱۳۰۱ھ ) لیکن اگر احراری معترضین کے لئے یہ فتاویٰ تسلی بخش نہ ہوں تو پھر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے جس کا حل کرنا ضروری ہوگا۔فیصلہ کا آسان طریق حدیث شریف میں ہے کہ لا يُجْمِعُ أُمَّتِی عَلی ضَلَالَةٍ “ یعنی میری امت کبھی گمراہی پر اجماع نہیں کر سکتی۔(ترمذی ابواب الفتن باب في لزوم الجماعة) پھر صحیحین کی حدیث " لَا يَزَالُ۔۔۔۔أُمَّتِى أُمَّةٌ قَائِمَةٌ بِأَمْرِ اللَّهِ۔(مشكوة كتاب المناقب باب ثواب هذه الامة الفصل الاول ( يه حديث لا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمُ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ (ترمذی کتاب الفتن باب ما جاء في اهل الشام) که قیامت تک میری امت میں ہر وقت اور ہر زمانہ میں ایک گروہ حق پر قائم رہنے والوں کا موجود رہے گا جو اسلامی تعلیم پر صحیح طور پر عمل کرنے والا ہوگا۔نیز حدیث بخاری لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِى ظَاهِرِينَ عَلَى الْحَقِّ۔(بخاری کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة باب قول النبى لا تزال طائفة من امتى ظاهرين) قرآن مجید کی آیت كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة: ۱۱۹) سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ صادقین کا گروہ ہر وقت دنیا میں موجود رہتا ہے جن کی معیت کا ہر طالب حق کو حکم دیا گیا۔ابوداؤد کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ۔(ابو داؤد أوّل كتاب الجهاد باب في دوام الجهاد)