مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 761
761 ہو پھر تلوار کی تدبیریں کرنا قرآن کریم کو چھوڑنا ہے۔“ ( تبلیغ رسالت جلد سوم صفحه ۹۳ ) کیا مرزا صاحب نے قیامت تک جہاد کو منسوخ کیا پس اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ میں قرآن مجید کی آیات درباره جہاد بالسیف کو منسوخ کرتا ہوں اور یہ حکم دیتا ہوں کہ اب خواہ دین میں جبر ہو اور مخالفین اسلام دین کے خلاف تلوار اٹھا ئیں پھر بھی ان کے ساتھ جہاد بالسیف حرام ہے تو ہم اس کو چیلنج کرتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب یا آپ کے کسی خلیفہ کی کسی تحریر سے اس مضمون کا کوئی ایک حوالہ ہی پیش کرے۔حضرت مرزا صاحب نے ہرگز قرآن مجید کے کسی حکم کو منسوخ نہیں کیا۔نہ آپ ایسا کر سکتے تھے۔آپ کا دعوی تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر یہ وحی ہوئی ہے۔"يُحْيِ الدِّينَ وَيُقِيمُ الشريعة ( تذکرۃ ایڈیشن نمبر ۲۴ صفحہ ۷۰ ) کہ مسیح موعود کو اس لئے بھیجا گیا ہے کہ وہ احیاء دین اور اقامت شریعت کرے۔پس آپ نے ہرگز کسی اسلامی حکم کو منسوخ نہیں کیا۔آپ تو ناسخ والمنسوخ فی القرآن کے بھی قائل نہ تھے۔حالانکہ تمام غیر احمدی علما ءاب تک ناسخ ومنسوخ فی القرآن کا مسئلہ مانتے ہیں۔احمدی جماعت ہر گز جہاد کو منسوخ نہیں سمجھتی۔نہ سیفی جہاد کی منکر ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ اگر دین میں جبر ہو اور اسلام کے خلاف تلوار اٹھائی جائے تو جہاد بالسیف فرض ہو جاتا ہے اور جس وقت تحقق شرائط کے باعث جہاد فرض ہو جائے پھر اس میں کوتاہی کرنے والا قابل مؤاخذہ ہوتا ہے۔اس بارہ میں حضرت مرزا صاحب کی تحریرات کے حوالے قبل از میں نقل کئے جاچکے ہیں۔پس اصل سوال یہ نہیں کہ مرزا صاحب نے کیا فی الواقع جہاد کو منسوخ کیا بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا فی الحقیقت حضرت مرزا صاحب کے زمانہ میں انگریزی حکومت کے خلاف جہاد بالسیف کرنا از روئے تعلیم اسلام فرض تھا یا نہیں۔کیا مرزا صاحب کے زمانہ میں جہاد بالسیف کی شرائط موجود تھیں یا نہیں؟ اگر شرائط موجود نہیں تھیں تو جہاد بالسیف یقیناً فرض نہیں تھا۔پھر حضرت مرزا صاحب پر کوئی اعتراض نہیں رہتا۔کیونکہ حضرت مرزا صاحب کا فتویٰ درست تھا، لیکن اگر یہ کہا جائے کہ اس زمانہ میں شرائط جہاد تق تھیں اور جہاد بالسیف فرض تھا۔تو اس کے جواب میں حضرت سید احمد بریلوی اور حضرت سید اسمعیل شہید کے فتاوی او پر نقل