مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 748
748 تعلیم کو بزور شمشیر منوانا اور غیر مسلموں کو یہ جبر و اکراہ حلقہ بگوش اسلام کرنا عین تعلیم اسلام ہے اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضور کے خلفائے راشدین کا طرز عمل بھی یہی رہا ہے اور وہ غیر مسلموں کو ان کی مرضی کے خلاف جبر و اکراہ سے مسلمان بنایا کرتے تھے۔تو پھر حقیقی اسلام کے علمبرداروں کے ہاتھ میں غیر مسلموں کے مقابلہ میں رہ ہی کیا جاتا ہے۔؎ گر مسیحاد شمن جاں ہو تو کیونکر ہو علاج؟ کون رہبر ہو سکے جو خضر بہکانے لگے؟ یہ ظالمانہ اور جارحانہ ”جہاد“ کا منگھڑت اور خلاف اسلام نظریہ ( جو آج تک مولوی ابوالاعلی مودودی اور ان کے ہم خیال علماء کے ہاں رائج ہے ) تبلیغ واشاعت اسلام کے رستہ میں ایک زبر دست روک ثابت ہو رہا ہے۔اس لئے ضروری تھا کہ اس غلط نظریہ کی پر زور تردید کی جائے تا اسلام کا خوبصورت اور منور چہرہ داغدار نہ ہونے پائے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس غلط نظریہ کی کما حقہ تر دید فرمائی اور یہی وہ جارحانہ لڑائی AGGRESSION ہے جس کے بارے میں حضور نے بار بار تحریر فرمایا ہے کہ اسلام میں جائز نہیں اور نہ اس قسم کی لڑائی کرنے کی مسلمانوں کو اجازت ہے۔موقوف“ اور ” التوا“ کے معنے اس مختصر تمہید کے بعد اب ہم احرار کے اصل اعتراض کو لیتے ہیں۔معترضین کی طرف سے عام طور پر اس الزام کی تائید میں تحفہ گولڑویہ صفحہ ۲۶ وصفحہ ۳۰ طبع اوّل، اربعین نمبر ۴ صفحه ۱۳ اطبع اوّل اور حقیقۃ المہدی کے حوالجات پیش کئے جاتے ہیں۔مگر افسوس ہے کہ ان محولہ بالا مقامات پر کسی جگہ بھی ”اسلامی جہاد کے قیامت تک منسوخ ہونے کا ذکر نہیں۔تحفہ گولڑویہ میں التواء “ اور موخر الذکر مقام پر موقوف“ کا لفظ ہے اور ظاہر ہے کہ لفظ التوا“ اور ”موقوف دونوں ہم معنے ہیں اور ان کا مفہوم عارضی طور پر کسی کام کو دوسرے وقت پر ڈال دینا ہوتا ہے۔ہمیشہ کے لئے ختم ہونا یا منسوخ ہو جانا اس سے مراد نہیں ہوتا۔پر لفظ ”وقف یا وقفہ“ کے معنے ہی دو کلاموں کے درمیانی عارضی سکون اور ٹھہرنے کے ہیں۔قرآن مجید کی آیات کے درمیان بھی ”وقف آتا ہے۔مگر کیا وقف کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے