مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 749
749 آگے کوئی آیت نہیں؟ عربی میں ”وَقَفَ لِفُلان“ کے معنے ہیں۔اس نے فلاں کا انتظار کیا اور وَقَفَ عَلَى حَضُورِ فلان کے معنے ہیں۔اس نے فلاں کے آنے تک کام ملتوی رکھا۔“ أَوْقَفَ وَ تَوَقَّفَ عَنْ“ کے معنی ہیں ”ملتوی کرنا۔“ وَقْفَةُ کے معنی ہیں اسٹیشن ٹھہراؤ اور موقوف“ کے معنی ہیں ”ٹھہرا ہوا“ (تسبل العربیہ زیر مادہ وقف) نیز ملاحظہ ہو م الفرائد الدریہ زیر مادہ وقف جس میں لکھا ہے وَقَفَ عَلَى الْكَلِمَةِ پڑھتے پڑھتے تھوڑی دیر کے لئے ٹھہرنا۔) وَقَفَ لِفُلان۔کسی کا انتظار کرنا۔أَوْقَفَ وَتَوَفَّفَ عَنْ کے معنی ہیں کسی معاملہ کو دوسرے وقت تک اٹھا رکھنا۔پس موقوف کے معنی ”ملتوی کے ہیں نہ کہ ہمیشہ کے لئے منسوخ ہو جانے کے؟ اندریں صورت معترضین کا مسیح موعود علیہ السلام پر منسوخی جہاد کا الزام لگانا کیونکر درست ہو سکتا ہے؟ قرآن مجید کا کوئی لفظ منسوخ نہیں ہو سکتا حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضور کے تتبع میں تمام احمدی قرآن مجید کے ہر ہر لفظ اور ہر ہر حرف کو ناقابل تنسیخ یقین کرتے ہیں۔ہمارا ایمان ہے کہ قرآن مجید کا کوئی حکم منسوخ نہیں ہوسکتا۔پس قرآن مجید اور حدیث صحیح میں جہاد کے بارے میں جو احکام ہیں احمدی ان پر دل و جان سے ایمان لاتے ہیں اور ان پر عمل کرنے کے لئے دل و جان سے تیار ہیں۔قرآن مجید نے جہاد بالسیف کے بارے میں جو حکم دیا ہے وہ ان الفاظ میں ہے کہ اذن لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (الحج: ٤٠) یعنی مومنوں کے ساتھ کفار دین کے باعث جنگ شروع کریں تو جوابی طور پر مومن تلوار کے مقابلہ میں تلوار اٹھا ئیں۔جماعت احمد یہ جہاد بالسیف کی قائل ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اسی کتب میں کسی ایک جگہ بھی یہ تحریر نہیں فرمایا کہ اگر کفار کی طرف سے تلوار اٹھائی جائے تب بھی جوابی طور پر تلوار نہ اٹھائی جائے۔یا یہ کہ قرآن مجید کی یہ یا دوسری آیات دربارہ جہاد منسوخ ہیں۔حضور نے تو صاف الفاظ میں تحریر فرمایا ہے: وَأُمِرُنَا أَنْ نُعد لِلْكَافِرِيْنَ كَمَا يُعَدُّوْنَ لَنَا، وَلَا نَرْفَعُ الْحُسَامَ قَبْلَ أَنْ نُقْتَلَ بِالْحُسَامِ۔(حقیقۃ المہدی۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۵۴)