مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 746
746 سویا درکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ماقبل یا بعد علماء کا ایک طبقہ ایسا تھا جس کے نزدیک ”جہاد“ کا نظریہ ہرگز وہ نہیں تھا جو آج کل کے عام مسلمانوں کا ہے۔کیونکہ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اسلامی اصطلاح میں غیر مسلموں کے خلاف جارحانہ اقدام کا نام ”جہاد“ نہیں، بلکہ دافعانہ جنگ کو جہاد کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔لیکن قارئین کے لئے یہ امر یقینا باعث تعجب ہو گا کہ بعض اسلامی علماء کے نزدیک غیر مسلموں کو بزور شمشیر مسلمان بنانے کا نام جہاد تھا۔اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل تحریرات قابل ملاحظہ ہیں :۔ا۔تمام شرائع میں سے کامل ترین وہ شریعت ہے جس میں جہاد کا حکم پایا جائے۔اس واسطے خدائے تعالیٰ کو اپنے بندوں کا اوامر و نواہی کے ساتھ مکلف کرنا ایسا ہے کہ جیسے ایک شخص کے غلام مریض ہورہے ہیں اور اس نے اپنے خاص لوگوں میں سے ایک شخص کو یہ حکم دیا کہ ان کو کوئی دوا پلائے۔پھر اگر شخص ان کو مجبور کر کے ان کے منہ میں دوا ڈالے تو یہ بات نا مناسب نہ ہوگی۔مگر رحمت کا مقتضی ہے کہ اول ان غلاموں سے اس دوا کے فوائد بیان کرے تا کہ خوشی کے ساتھ اس دوا کو پی لیں اور نیز اس دوا میں کوئی شیریں چیز مثلاً شہد شامل کر دے تا کہ رغبت طبعی اور نیز رغبت عقلی اس کی معین ہو جائے۔پھر اکثر لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ریاستوں کی محبت اور ان کا شوق اور شہوات دنیہ اور اخلاق سبھی اور وساوس شیطانی ان پر غالب ہوتے ہیں اور ان کے آبا ؤ اجداد کے رسوم ان کے قلوب میں مرتکز ہو جاتے ہیں تو ان فوائد پر وہ کان نہیں دھرتے اور جس چیز کا حضور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا ہے اس میں وہ فکر نہیں کرتے اور نہ اس کی خوبی میں ان کو غور ہوتا ہے۔تو ان کے حق میں رحمت کا مقتضی یہ نہیں ہے کہ صرف اثبات حجت کا ان پر اقتصار کیا جائے بلکہ رحمت ان کے حق میں یہی ہے کہ ان پر جبر کیا جائے تاکہ خواہ مخواہ ایمان ان پر ڈالا جائے جس طرح تلخ دوا کے پلانے پر مجبور کیا جاتا ہے۔(حجۃ اللہ البالغہ مترجم اردو مطبوعہ حمایت اسلام پریس لاہور جلد ۲ صفحہ ۴۰۷ ، ۴۰۸ ) ۲۔مشہور مصنف ایم اسلم لکھتے ہیں:۔” خلیفہ وقت کا سب سے بڑا کام اشاعت اسلام تھا یعنی خدا اور اس کے رسول کا مقدس پیغام خدا کی مخلوق تک پہنچانا اور انہیں دعوت اسلام دینا۔جب کسی حکمران کو دعوت اسلام دی جاتی ہے تو دوشرطیں پیش کی جاتیں۔ایک یہ کہ مسلمان ہو جائے دوسرے یہ کہ اگر مسلمان نہیں ہوتے تو جز یہ دو اور دونوں شرطیں نہ مانی جاتیں تو پھر مجاہدین اسلام کو ان سرکشوں کا بھر کس نکالنے کا حکم ملتا اور اس کا نام جہاد ہے۔“ (حزب المجاہد صفحہ ۳۵)