مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 682
682 اب ظاہر ہے کہ وہ پہلا قول جس میں حضرت مسیح ناصری کو زندہ قرار دیا گیا ہے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ہے۔مگر جس میں ان کو وفات یافتہ قرار دیا گیا ہے (کشتی نوح صفحہ 1 طبع اول ) وہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔پس ان میں تناقض نہ ہوا۔۔مندرجہ بالا قسم کی مثالیں حدیث میں بھی ہیں:۔ا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لا تُخَيَّرُونِي عَلَى مُوسَى (بخاری کتاب الخصومات باب ما يذكر في الاشخاص والخصومة بين المسلم واليهودی) کہ مجھ کو موتی سے اچھا نہ کہو۔پھر فرماتے ہیں:۔مَنْ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِّنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى فَقَدْ كَذِبَ“ (بخاری کتاب التفسير باب انا أوحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إلى نوع۔۔يونس الخ سورة النساء) کہ جو یہ کہے کہ میں یونس بن متی سے افضل ہوں وہ جھوٹا ہے۔مسلم شریف کی حدیث میں آتا ہے: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ (مسلم کتاب الفتن واشراط الساعة ) کہ ایک آدمی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا۔اور حضور صلعم کو مخاطب کر کے کہا۔اے تمام انسانوں سے افضل ! اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔وہ تو براہیم علیہ السلام ہیں۔یعنی ابراہیم علیہ السلام تمام انسانوں سے افضل ہیں نہ کہ میں۔مشکوۃ صفحہ ۴۱۷ باب المفاخرة والعصبية فصل الاول مطبع اصبح المطالع پر اس حدیث کی شرح میں حضرت ملا علی قاری لکھتے ہیں : قَوْلُهُ ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ قِيْلَ ذَاكَ تَوَاضَعٌ مِنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقِيلَ كَانَ قَبْلَ عِلْمِهِ بِأَنَّهُ سَيِّدُ وُلْدِ ادَم۔“ (مرقاة برحاشیہ مشکوة اصبح المطابع صفحه ۲۱۷ حاشیہ نمبر ۸) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا کہ وہ ابراہیم ہے۔“ کہا گیا ہے کہ حضور کا یہ فرمانا از راہ انکسار تھا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب یہ فرمایا تھا اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ابھی یہ اطلاع نہ ملی تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سب انسانوں سے افضل ہیں۔بعد میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔آنَا سَيِّدُ وُلدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ (ترمذی ابواب التفسير سورة بنی اسرائیل ابواب المناقب )( کہ میں تمام انسانوں کا