مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 681 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 681

681 درست اس طرح ہے۔تو دوسرا قول نبی کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہوگا۔لہذا تناقض نہ ہوا۔تناقض کے لئے ضروری ہے کہ ایک ہی شخص کے اپنے دو اقوال میں تضاد ہو۔۲۔قرآن مجید میں ہے:۔لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا‘ (النساء : ۸۳) کہ اگر یہ خدا تعالیٰ کا کلام نہ ہوتا۔بلکہ خدا کے سوا کسی اور کا کلام ہوتا۔تو اس میں اختلاف ہوتا۔پس ثابت ہوا کہ کلام اللہ کے سوا باقی سب کے کلام میں اختلاف ہونا چاہیے۔نبی بھی انسان ہے اور وہ بھی ربَّ زِدْنِي عِلْمًا (طه: ۱۱۵) کی دعا کرتا ہے۔جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کی کہ اے اللہ! میرا علم بڑھا۔پس جو کلام نبی خدا کے بتائے ہوئے علم سے پہلے کرے گا وہ ہو سکتا ہے کہ اس کلام کے مخالف ہو جو اللہ تعالی کی طرف سے اسے دیا جائے۔مثلاً حضرت نوح علیہ السلام کا قول قرآن مجید میں ہے کہ:۔إِنَّ ابْنِى مِنْ أَهْلِى (هود: ۴۶) که یقینا میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے۔مگر خدا تعالیٰ نے فرمایا:۔إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِك (سورة هود: ۴۷ ) کہ وہ یقیناً آپ کے اہل میں سے نہیں ہے۔اب اس وحی الہی کے بعد اگر حضرت نوح علیہ السلام اپنے بیٹے کو اہل میں شمار نہ کریں (جیسا کہ واقعہ ہے ) تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔کیونکہ پہلا قول حضرت نوح علیہ السلام کا اپنا خیال تھا۔مگر دوسرا قول خدا کے بتائے ہوئے علم کی بناء پر ہے ہاں الہام الہی میں اختلاف نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ علیم کل ہستی کی طرف سے ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے:۔وَعَدَّمْكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ (النساء : ۱۱۴) کہ اللہ تعالی نے آپ کو وہ علم دیا ہے جو پہلے آپ کو نہ تھا۔اب ظاہر ہے کہ آپ کے زمانہ قبل از علم کے کلام اور زمانہ بعد از علم کے کلام میں اختلاف ہونا ضروری ہے۔مگر یہ امر آپ کی نبوت کے منافی نہیں بلکہ ایک لحاظ سے دلیل صداقت ہے کیونکہ یہ عدم تصنع پر دلالت کرتا ہے۔اسی قسم کا اختلاف وفات مسیح کے مسئلہ کے متعلق ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے پہلے اپنا خیال براہین احمدیہ ہر چہارم حصص صفحه ۳۶۱ حاشیه صفحه ۵۲۰ در حاشیہ طبع اول میں لکھ دیا۔لیکن بعد میں جو م دیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ پر منکشف فرمایا۔وہ بھی کچھ براہین احمدیہ اور کچھ بعد کی تحریرات میں درج فرما دیا۔